چین کی معیشت نے چند سالوں سے، قنوطیت پسندوں کو گڑبڑا کر رکھ دیا ہے جب کہ شکوک و شبہات رکھنے والوں نے ہر نئے چیلنج یا بیرونی جھٹکے کو چینی معیشت کے ناگزیر زوال کی علامت گردانا ہے۔ لیکن اس کے حوالے سے کوئی کتنے بھی منفی اندازے لگا لے ، حقائق خود بول رہے ہیں کہ اگرچہ چینی معیشت مخالف ہواوں کے اثرات سے محفوظ نہیں ہے، لیکن یہ توقع سے کہیں زیادہ مضبوط ثابت ہوئی ہے۔
تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ عالمی سطح پر شدید اتار چڑھاو اور داخلی چیلنجز کے باوجود، 2025 میں چینی معیشت کی شرح نمو 5 فیصد رہی ، جو مقررہ ہدف کے مطابق اور عالمی معیار کے لحاظ سے مضبوط تھی۔
اعداد و شمار کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ چین کی معیشت کی مضبوطی میں، آلات اور ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ کے شعبے کی مضبوط رفتار، جدید خدمات میں مستقل توسیع اور تجارتی ڈھانچے کی مسلسل بہتری شامل ہے۔چین نے انتہائی غیر مستحکم تجارتی ماحول، تعمیراتی شعبے میں ساختی اصلاحات نیز طلب و رسد کے درمیان مقامی عدم توازن کے باوجود کامیابی حاصل کی۔پالیسی کی بروقت تبدیلیوں، تجارتی تنوع اور اتار چڑھاو کے جھٹکوں کو سہہ جانے والی معیشت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چینی معیشت نے بہت سے تجزیہ کاروں کی پیش گوئی کے برخلاف ، ایک مشکل سال کو بغیر کسی بڑی خرابی کے مکمل کیا۔
چین کی ترقی کے پیچھے جو ستون گزشتہ دہائیوں میں موجود تھے، وہ اب بھی مضبوطی سے قائم ہیں۔ 1.4 ارب صارفین کی ایک بڑی مقامی منڈی کھپت کو سہارا دیتی ہے، جبکہ چین کی وسیع اور لچکدار سپلائی چینز پیداوار کے تسلسل کو یقینی بناتی ہیں۔استحکام کو مستقل پالیسی ڈیزائن سے مزید تقویت ملتی ہے۔ پانچ سال کی طویل مدتی منصوبہ بندی، اہداف پر مبنی مالی اور مالیاتی اقدامات کے ساتھ ساتھ ساختی اصلاحات کا عزم، مارکیٹ اور سرمایہ کاروں کے لیے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کا ماحول فراہم کرتا ہے۔
جیسے جیسے روایتی ترقی کے عوامل پر دباؤ بڑھ رہا ہے، ایک نیا سرکردہ گروہ سامنے آیا ہے، جس میں اب چین کی ترقی کی رفتار کے لیے جدت طرازی مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ نئی توانائی والی گاڑیاں، فوٹو وولٹائکس، روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت جیسے عناصر تعداد پر مبنی توسیع سے معیار پر مبنی ترقی کی طرف منتقلی میں مدد دے رہے ہیں۔ اس "تکنیکی جست" کے ساتھ ملک میں سبز منتقلی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے ، جہاں قابل تجدید صلاحیت عالمی سطح پر سب سے تیز رفتار سے بڑھ رہی ہے۔
پالیسی اور پیمانے سے آگے، چین کی سب سے بھرپور اور متاثر کن طاقت اس کے عوام میں پوشیدہ ہے، کارخانوں میں موجود محنتی مزدوروں سے لے کر تحقیقی لیبارٹریز میں مصروف ذہین دماغوں تک، چینی قوم کی اجتماعی ذہانت و حوصلہ ،معیشت کی مضبوط بنیاد استوار کرتے ہیں اور مستقبل کی ترقی کے لیے ایک مستقل انجن کا کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ طاقت ملک کی دوہری حکمت عملی کے عین مطابق ہے، جو 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے دوران "فزیکل انفراسٹڑکچر " اور "ہیومن کیپیٹل" میں سرمایہ کاری پر مرکوز ہے۔ چین یہ تسلیم کر رہا ہے کہ تعلیم اور مہارت کے فروغ میں سرمایہ کاری کرنا اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ جدید کارخانے بنانا، اس طرح سے چین مستقبل کی ترقی کے لیے اپنے "ہیومن انجن" کو مؤثر طریقے سے اپ گریڈ کر رہا ہے۔
علاوہ ازیں، چین کی کھلے پن کی پالیسی داخلی صلاحیتوں میں اضافہ کرتی ہے ۔ پالیسی اصلاحات، تجارتی معاہدوں کے ذریعے عالمی شراکتیں، غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے اور اس کی حفاظت کے اقدامات نے ایک ایسا کاروباری ماحول پیدا کیا ہے جس میں مستقبل کے حوالے سے ابہام نہیں بلکہ واضح اندازے لگائے جا سکتے ہیں اسی باعث ، چین عالمی معیشت میں ضم ہو رہا ہے اور مقامی سطح پر مستحکم ترقی کو تقویت مل رہی ہے۔
چینی معیشت کی صحیح سمجھ کے لیے یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ اس کی صلاحیتوں کی تصدیق کرنا ضروری ہے بلکہ اس کے لیے بنیادی ڈھانچے کے مسائل اور ابھرتے ہوئے چیلنجز کا غیر جانبدارانہ اندازہ کرنابھی ضروری ہے۔ مرکزی اقتصادی ورک کانفرنس کی جانب سے بھی یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ ، چین ایک پیچیدہ صورت حال کا سامنا کر رہا ہے جہاں بیرونی دباؤ بڑھ رہے ہیں اور داخلی عدم توازن، خاص طور پر مضبوط رسد اور کمزور طلب کے درمیان تناو نمایاں ہے۔
تاہم، یہ بنیادی طور پر ایک ساختی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز ہیں۔ چین اپنے گورننس سسٹم کے بنیادی فوائد، بھرپور اقتصادی پیمانے، جامع صنعتی چینز اور ہنر مند وں کے وسیع وسائل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، ان خطرات کا سامنا کرنے کے لیے اب بھی اسی طرح مکمل طور پر تیار ہے، جیسے کہ اس نے پہلے بھی متعدد چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔ایک غیر یقینی عالمی منظرنامے میں، چین کی طاقت اس حوالے سے کم ہو سکتی ہے کہ یہ کتنی تیزی سے بڑھتا ہے لیکن چین کی طاقت کتنی مستحکم اور کتنی پائیداری سے آگے بڑھتی ہے یہ امر زیادہ مضبوط ہے۔



