یورپی یونین کی خارجہ پالیسی اور سیکیورٹی امور کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالاس نے مقامی وقت کے مطابق 22 تاریخ کو یورپی یونین کے ہنگامی سربراہی اجلاس سے قبل کہا کہ یورپی یونین مشرقِ وسطیٰ میں امن کے فروغ کی خواہاں ہے اور اس بات کی حامی ہے کہ نام نہاد "بورڈ آف پیس" کے اختیارات اور کردار کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے طے شدہ فریم ورک تک محدود رکھا جائے۔
اسی روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں 10 سے زائد ممالک اور خطوں کے نمائندوں کے ساتھ ایک دستاویز پر دستخط کیے، جس کے ذریعے نام نہاد "بورڈ آف پیس" کے قیام کا آغاز کیا گیا۔ تاہم دستخط کی تقریب میں فلسطین اور اسرائیل کے نمائندے شامل نہیں تھے۔
ٹرمپ نے اس سے قبل ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ "بورڈ آف پیس" سب سے پہلے غزہ کے مسئلے سے نمٹے گا، جس کے بعد اسے "دیگر تنازعات" تک توسیع دی جائے گی۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ امریکہ اقوام متحدہ کے متوازی ایک نیا ادارہ تشکیل دینا چاہتا ہے، جو اقوام متحدہ کی اتھارٹی اور اس کے کام کرنے کے نظام کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں بعض مدعو ممالک نے اس میں شمولیت سے انکار کیا ہے یا محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔



