• صفحہ اول>>تبصرہ

    جامعات کی "حیران کن" درجہ بندی کو تحمل سے دیکھیے

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-01-23

    حال ہی میں،دنیا کی بہترین جامعات کے بارے میں نیدرلینڈز کی جاری کردہ 'لائڈن رینکنگز' موضوع گفتگو بنی ہوئی ہیں۔ اس فہرست میں دنیا کی 10 بہترین جامعات میں سے آٹھ چین کی ہیں، جن میں جہ جیانگ یونیورسٹی پہلے نمبر پر ہے جب کہ امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی ، جو طویل عرصے سے سر فہرست تھی تیسرے نمبر پر آ گئی ہے اور ان نتائج کے بعد ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔ نیو یارک ٹائمز نے "امریکی سکولز کی تنزلی، چینی جامعات عالمی درجہ بندی میں عروج پر "کے عنوان سے ایک تفصیلی تجزیہ شائع کیا، جب کہ فرانس کے 'لا موندے' نے 20 جنوری کو رپورٹ کیا کہ یہ درجہ بندی انتہائی "شاکنگ" ہے اور چینی جامعات کا عروج مغرب کو اپنے بارے میں بےیقینی میں مبتلا کر رہا ہے۔

    اس "شاکنگ" درجہ بندی کو کیسے دیکھا جائے؟ ہمارا جواب سادہ ہے: تحمل کے ساتھ ۔

    یہ درجہ بندی بڑی حد تک ،تعلیم اور سائنس و ٹیکنالوجی میں چین کی ترقیاتی پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔ نیدرلینڈز کی لائڈن یونیورسٹی میں سائنس و ٹیکنالوجی سٹڈی سینٹرجو یہ درجہ بندی شائع کرتا ہے، سائنٹومیٹرکس کے میدان میں عالمی طور پر بہت قابل احترام مانا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ درجہ بندی انتہائی اعلی پائے کے بین الاقوامی علمی جرائد میں "ریسرچ آوٹ پٹ" پر مرکوز ہے۔کئی برس سے چینی محققین SCI-انڈیکسیڈ پیپرز کی تعداد اور حوالہ جات کی تعداد میں عالمی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کرتے آرہے ہیں۔ ان معیاروں کے مطابق، یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ فہرست میں پہلی دس میں سے آٹھ ، چینی جامعات ہیں۔ 2025 میں، چین کی تحقیق اور ترقی (R&D) کے اخراجات 2.8 فیصد تک پہنچ گئے، جو کہ پہلی بار اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (OECD) کی معیشتوں کے اوسط سے بھی تجاوز کر گئے، لہذا، عالمی درجہ بندی میں چینی جامعات کی ترقی چین کی ،سائنس و تعلیم کے ذریعے ملک کو مضبوط کرنے کی طویل مدتی حکمت عملی کا ایک قدرتی نتیجہ ہے، جس کے ساتھ ساتھ تحقیق و ترقی کے لیے سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ بھی شامل ہے۔

    سر فہرست 10 جامعات میں شامل چین کی زیادہ تر جامعات ، تحقیق پر مرکوز ادارے ہیں جو سائنس اور انجینئرنگ میں مہارت کے حامل ہیں ، مثلاً چھنگہوا یونیورسٹی، جہ جیانگ یونیورسٹی اور شنگھائی جیاو تھونگ یونیورسٹی۔ یہ درجہ بندی دراصل برقی مواصلات، مٹیریل سائنسز ، طبیعیات و کیمسٹری اور حواوے کی 5جی ٹیکنالوجیز سے لے کر تھیان حہ سپر کمپیوٹرز اور کوانٹم سیٹلائٹ "Micius" تک، چین کی بڑھتی ہوئی مسابقت کو ظاہر کرتی ہے جن میں براہ راست، چینی جامعات کی تحقیقاتی ٹیمز کا اہم اور بے حد مضبوط کردار ہے۔ چینی جامعات کی جانب سے مسلسل فراہم ہونے والی جدت نے چین کو ایک بڑے "مینوفیکچرنگ" ملک سے ایک بڑی "سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پاور" میں تبدیل کر دیا ہے۔

    تاہم، اس درجہ بندی کے دائرہ کار کے بارے میں واضح رہے کہ اس کا ایک مخصوص نقطۂ نظر یا ترجیح ہے اور اس میں جامعات کی تعلیمی تحقیقاتی اشاعتوں میں کارکردگی پر زیادہ زور دیا جاتا ہے ، جو کہ مکمل تصویر نہیں بلکہ تصویر کاایک رخ ہے ۔ اگر زیادہ جامع اشاریوں سے اندازہ لگایا جائے تو جامعات کے حوالے سے زیادہ مستند عالمی درجہ بندیاں اب بھی قیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگز، ٹائمز ہائیئر ایجوکیشن ورلڈ یونیورسٹی رینکنگز اور شنگھائی رینکنگ کی اکیڈمک رینکنگ آف ورلڈ یونیورسٹیز ہیں۔ ان درجہ بندیوں میں، امریکا اور برطانیہ کی جامعات اعلیٰ درجوں پر رہتی ہیں۔ تحقیق کی اصل، عالمی ٹیلنٹ کی کشش اور آجر کی شہرت کے لحاظ سے، قائم شدہ مغربی جامعات اب بھی فائدہ مند ہیں۔ یہ فرق یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ چینی جامعات کی مجموعی طاقت ، خاص طور پر مربوط ٹیکنالوجیز کو حقیقی دنیا کی ایپلی کیشنز میں تبدیل کرنے کی صلاحیت اور جدید ٹیلنٹ کی نشو نما کے ماڈلز میں، مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

    2000 کی ابتدائی دہائی میں، اسی لائڈن رینکنگ میں 10 میں سے سات امریکی جامعات تھیں، جب کہ جہ جیانگ یونیورسٹی صرف ٹاپ 25 میں شامل تھی۔ آج، ہارورڈ تیسرے نمبر پر ہے حالانکہ آج وہ پہلے سے بھی زیادہ تحقیق کر رہی ہے ۔ گزشتہ دو دہائیوں میں چینی جامعات کی ترقی کو دیکھتے ہوئے، یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ مغربی میڈیا کیوں "شاکڈ" ہے، اس درجہ بندی نے طویل عرصے سے قائم کئی تصورات کو الٹا دیا ہے تاہم چینی جامعات نے یہ توجہ اور مقام "ایک ہی رات " میں نہیں حاصل کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں، بنیادی تحقیق میں ترقی، فرنٹیئر ٹیکنالوجیز میں کامیابیاں اور سٹریٹجک صنعتوں میں بڑی کامیابیوں کے ساتھ، چین کی سائنسی و تکنیکی ترقی دنیا کے سامنے واضح ہے۔ چونکہ جامعات سائنسی و تکنیکی ترقی کے لیے ایک "ذخیرے" کے طور پر کام کرتی ہیں، اس لیے یہ قدرتی امر ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے اداروں نے بھی اس کے مطابق نتائج حاصل کیے ہیں۔

    مغربی میڈیا کے چند اداروں کا ، لائڈن رینکنگ کو "طاقت کی تبدیلی" یا "نئے عالمی نظام" سے جوڑ نا بے جا ردعمل ہے تاہم اس رد عمل اور "شاک" کے پیچھے مغربی ٹیکنالوجی کی بالادستی کے زوال کا خوف نظر آتا ہے۔ حقیقت میں، چینی جامعات کی ترقی ،مغرب کی ناکامی کی علامت نہیں ہے؛ بلکہ اس سے انسانیت کے لیے علم کی تخلیق میں "اجتماعی اضافے" کی نمائندگی ہوتی ہے۔ ہارورڈ کی لبرل تعلیم سے لے کر سٹینفرڈ کی کاروباری انکیوبیشن تک، ترقی یافتہ ممالک کے جدید تعلیمی فلسفوں سے استفادہ کرنا چینی جامعات کی ترقی کا حصہ رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی علمی تعاون دن بہ دن مزید ایک دوسرے سے منسلک ہو رہا ہے، سائنسی شعبہ زیرو سم سوچ سے آزاد ہو کر ہی انسانیت کے لیے مشترکہ طور پر ترقی کی راہیں آسان کر سکتا ہے۔

    ایک لحاظ سے، لائڈن رینکنگ ایک آئینے کی مانند ہے، جو ہماری کامیابیوں اور ناکامیوں دونوں کو ظاہر کرتی ہے۔ ہر سال، بہت سے چینی طلبہ سمندر پار جا کر تعلیم حاصل کرتے ہیں، جبکہ معزز مغربی ادارے جیسے ہارورڈ اور آکسفورڈ ان کے "ڈریم سکولز " بنتے ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ مستقبل میں چینی جامعات کو مزید بین الاقوامی طلبہ کے لیے " ڈریم سکولز " بنیں گی اور وہ چین میں پڑھنے کا انتخاب کریں گے۔ یہ ایک زیادہ موثر "رینکنگ" ہوگی۔

    ویڈیوز

    زبان