حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ افغانستان جنگ کے دوران اگرچہ نیٹو کے دیگر ممالک نے بھی فوجی دستے بھیجے، تاہم وہ "محاذِ جنگ سے دور رہے"۔ اس بیان پر امریکہ کے اتحادی ممالک نے ردِعمل دیتے ہوئے اس کی تردید کی ہے۔ آسٹریلوی وزیر اعظم البانیز نے 25 جنوری کو ایک پروگرام میں کہا کہ افغانستان میں خدمات انجام دینے والے چالیس ہزار آسٹریلوی "یقیناً فرنٹ لائنز پر تھے۔" ٹرمپ کا بیان "مکمل طور پر ناقابل قبول" ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے 23 تاریخ کو کہا کہ ٹرمپ کے ریمارکس "حیران کن" ہیں اور "افغانستان میں نیٹو افواج کے کردار کو کم تر نہیں سمجھا جانا چاہیے"۔ تاہم ، 24 تاریخ کو ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے مؤقف میں نرمی لاتے ہوئے کہا کہ "عظیم اور بہادر برطانوی فوجی ہمیشہ امریکہ کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے"۔



