• صفحہ اول>>سائنس و ٹیکنالوجی

    چین میں ہیپاٹائٹس ڈی کے علاج کے لیے Libevitug کی منظور ی

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-01-26

    26جنوری (پیپلز ڈیلی آن لائن)حواحوئی ہیلتھ نے اعلان کیا ہے کہ چائنا نیشنل میڈیکل پراڈکٹس ایڈمنسٹریشن (NMPA) نے دائمی ہیپاٹائٹس ڈی وائرس انفیکشن کے علاج کے لیے Libevitug انجیکشن کی مشروط منظوری دے دی ہے ۔ Libevitug انجکشن، وائرل ہیپاٹائٹس کے علاج میں ایک نمایاں کامیابی ہے ۔ یہ وائرل ہیپاٹائٹس کے لیے اپنی نوعیت کی پہلی اینٹی باڈی تھراپی اور چین میں HDV کے لیے منظور شدہ پہلا علاج ہے، جو اس میدان میں ایک اہم طبی خلا کو پورا کرتا ہے۔ اس دوا کو پہلے ہی چائنا NMPA کے سینٹر فار ڈرگ اویلیوایشن (CDE) اور امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) دونوں سے 'بریک تھرو تھراپی ڈیزگنیشن' بھی حاصل ہو چکا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت اور جگر پر تحقیق کی یورپی ایسوسی ایشن EASL کی گائیڈ لائنز میں ، ایچ بی وی – ایچ ڈی وی کو -انفیکشن کو دائمی وائرل ہیپاٹائٹس کی سب سے شدید اور جان لیوا شکل کے طور پر شناخت کیا گیا ہے ۔ دائمی ایچ بی وی – ایچ ڈی وی کو -انفیکشن ، ایچ بی وی مونو-انفیکشن کے مقابلے میں سیروسس اور جگر کے کینسر کے زیادہ خطرے کا باعث بنتی ہے، جو کہ عالمی سطح پر ایچ بی وی انفیکشن والے لوگوں میں سیروسس کے تقریباً ایک میں سے چھ کیسز اور جگر کے کینسر کے ایک میں سے پانچ کیسز میں ہوتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق ایچ ڈی وی ، ایسے تقریباً 5 فیصد (اندازاً 12 ملین) افراد کو متاثر کرتی ہے جو ایچ بی وی کے ساتھ دائمی انفیکشن میں مبتلا ہیں۔ چین میں، جہاں 75 ملین سے زیادہ مریض دائمی ہیپاٹائٹس بی میں مبتلا ہیں، ایچ ڈی وی کے علاج کی محدود سہولیات، طبی آگاہی کی کمی اور ٹیسٹنگ کی کم شرح کے باعث مریضوں کے پاس علاج کی سہولیات ناکافی ہیں اور اس کے لیے ایک فوری طبی سہولت فراہم کرنا ضروری تھا ۔

    جیلین یونیورسٹی فرسٹ ہاسپٹل کے اہم محقق ، پروفیسر نیو جن چی کا کہنا ہے کہ یہ دوا چین کے ،وائرل ہیپاٹائٹس کی روک تھام اور کنٹرول ایکشن پلان (2025-2030) کے بنیادی مقاصد کی معاونت کرتی ہے اور وائرل ہیپاٹائٹس کی تشخیص وعلاج کی شرح کو بڑھانے ،جگر کے کینسر اور اموات کی شرح کو کم کرنے میں اہم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ دوا بیماری کی شدت میں اضافے کے خطرے کو مؤثر طریقے سے کم کرے گی، چین میں ایچ ڈی وی کی تشخیص اور علاج کو معیاری بنائے گی، 2030 تک وائرل ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے ہدف کو حاصل کرنے میں مدد گار ہوگی نیز گلوبل ہیپاٹائٹس کنٹرول کی کوششوں میں چین کی طرف سے سائنسی طور پر قابل اعتبار اور قابل رسائی حل فراہم کرے گی۔

    حواحوئی ہیلتھ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر چھین بن کا کہنا ہے کہ Libevitug کی منظوری ،دنیا بھر کے مریضوں کو نئی اور منفرد تھراپیز فراہم کرنے کے لیے عالمی معیار کے تجرباتی اور کلینیکل ترقیاتی پلیٹ فارم کی تشکیل کے لیے ہمارے عزم کی تکمیل کرتی ہے ۔ محققین نے مربوط تحقیق و ترقی کا ایک ایسا نظام تشکیل دیاہے کہ جو دوا کے پورے ترقیاتی عمل کا احاطہ کرتا ہے اور جس کی پائپ لائن ایچ ڈی وی اور ایچ بی وی سے آنکولوجی اور جگر کی دیگر بیماریوں تک پھیلی ہوئی ہے ۔ مستقبل میں، "Original in China, Benefiting the Globe" کےبھرپور عزم کے ساتھ ،سائنس کو بروئے کار لاتے ہوئے متعدی اور جگر کی بیماریوں میں گلوبل ہیلتھ کیئر کا تحفظ کریں گے۔

    ویڈیوز

    زبان