• صفحہ اول>>سائنس و ٹیکنالوجی

    انٹرویو: چین آئی کیو دور کا قائد ہے، چائنا ای یو صدر لوئیگی گمبارڈیلا

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-03-06

    2 مارچ 2026 ۔ بارسلونا، سپین میں منعقدہ موبائل ورلڈ کانگریس2026 میں لوگ چائنا مابائل کے بوتھ میں نمائش کے لیے رکھے گئے روبوٹس کو دیکھ رہے ہیں ۔ (شنہوا۔ چھینگ من )

    2 مارچ 2026 ۔ بارسلونا، سپین میں منعقدہ موبائل ورلڈ کانگریس2026 میں لوگ چائنا مابائل کے بوتھ میں نمائش کے لیے رکھے گئے روبوٹس کو دیکھ رہے ہیں ۔ (شنہوا۔ چھینگ من )

    6مارچ (پیپلز ڈیلی آن لائن)بارسلونا میں منعقدہ موبائل ورلڈ کانگریس 2026 میں اس صنعت کے اعلی ڈیجیٹل ماہرین کا کہنا تھا کہ چینی کمپنیز عالمی سطح پر "آئی کیو دور" کی جانب تیز رفتار تبدیلی میں سب سے آگے ہیں۔

    برسلز میں قائم بین الاقوامی ڈیجیٹل ایسوسی ایشن چائنا ای یو کے صدر لوئیگی گمبارڈیلا نے چینی خبر رساں ادارے شنہوا کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ چین، ذہین نیٹ ورکس کی تعمیر اور بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت کو عملی شکل دینے میں آگے ہے۔

    اس سال کی موبائل ورلڈ کانگریس ، جس کا موضوع "آئی کیو دور" ہے، ٹیلی کمیونیکیشن، اے آئی ، روبوٹکس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور نیکسٹ جنریشن نیٹ ورک ٹیکنالوجیز کی گہری ہم آہنگی کو اجاگر کرتی ہے۔ لوئیگی گمبارڈیلا کا کہنا تھا کہ یہ ایونٹ، عالمی مواصلات کی صنعت کے "کنیکٹیویٹی دور" سے "آئی کیو دور" میں منتقلی کی علامت ہے۔ سمارٹ انفراسٹرکچر کے دور میں، مقابلہ صرف اس بات کا نہیں ہے کہ کون تیز تر نیٹ ورکس یا وسیع تر کوریج دے سکتا ہے بلکہ یہ ایسے نیٹ ورکس تیار کرنے کے بارے میں ہے جو ادارک کی صلاحیتیں رکھتے ہوں۔ ڈیجیٹل فائدے کا مستقبل زیادہ تر اس صلاحیت پر منحصر ہوگا کہ بڑے پیمانے پر اے آئی کو کیسے نافذ کیا جائے جو جدت کو ایسے نظاموں میں تبدیل کرے جو قابل استعمال، قابل اعتماد، اور مستقل ہوں۔

    گمبارڈیلا نے نشاندہی کی کہ چینی کمپنیز نےموبائل ورلڈ کانگریس 2026 میں الگ الگ تکنیکی پیش رفت نہیں بلکہ مربوط تعمیری ڈھانچے پیش کیے ہیں ۔آئی کیو دور میں مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر سے آگے بڑھ کر براہ راست مجسم دنیا میں داخل ہو رہی ہے، جسے 'فزیکل اے آئی' کہا جاتا ہے، بنیادی ڈھانچے میں موجود ذہانت صنعتی خودکاریت، پیشگوئی کی بنیاد پر دیکھ بھال، رئیل ٹائم میں معیار کے کنٹرول اور بہتر لاجسٹکس کو ممکن بناتی ہے۔گمبارڈیلا نے اس تبدیلی میں چین کی مضبوط کارکردگی کا سبب اس کی بڑی مارکیٹ کی وسعت، حقیقی دنیا کےملٹی ایپلیکیشن منظرنامے اور مربوط عمودی صنعتی ماحولیاتی نظام کو قرار دیا ہے ۔

    چین-یورپ تعاون کے امکانات کے بارے میں، گمبارڈیلا کا کہنا تھا کہ یورپ کی ڈیجیٹل اور سبز تبدیلیوں کے لیے زیادہ ذہین بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہے تاکہ پیداوار بڑھ سکے، توانائی کی قیمتیں کم ہو سکیں اور سپلائی چین کی لچک کو مضبوط کیا جا سکے۔ ان کی رائے میں ،بارسلونا میں بہت سی چینی کمپنیز کے تجربات اور تکنیکی پختگی پیش کی گئی ہے جو تجربات اور قابل پیمائش اقتصادی اثرات کے درمیان خلا کو پُر کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایم ڈبلیو سی 2026 صرف جدید ٹیکنالوجیز کی نمائش نہیں، بلکہ یہ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے مستقبل پر بحث کرنے کے لیے بھی ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔

    ایم ڈبلیو سی بارسلونا 2026 ،میں اس تقریب کی 20 ویں سالگرہ منائی گئی ، جس میں تقریباً 2,900 نمائش کنندگان، سپانسرز اور شراکت دار شامل ہوئے۔ منتظمین کے مطابق، کانگریس میں پہلی بار ایک چینی پویلین قائم کیا گیا ہے، جس میں چین کی چائنا موبائل، چائنا یونی کوم، ہواوے، زی ٹی ای، آنر اور شیاومی جیسی بڑی کمپنیز شامل ہیں۔

    ویڈیوز

    زبان