ترقی کے ہدف کی حقیقت پیش گوئی میں نہیں بلکہ رہنمائی اور تشکیل میں ہے، جہاں بنیادی توجہ ضروریات اور امکانات پر ہے۔
ضروریات کیوں؟
"معقول حد میں رہنا" اور مثبت ترقی حاصل کرنا مثبت ترقی کی ضروریات ہیں۔
اقتصادی ترقی ایک بنیادی اور جامع اشاریہ ہے جس میں مضبوط باہمی تعلق ہوتاہے۔ یہ ملازمت کے مواقع، تعلیمی فنڈنگ، اور سماجی تحفظ کے اخراجات تک ہر چیز کو متاثر کرتی ہے۔ اقتصادی ترقی کی ایک مخصوص شرح اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے ایک پیشگی شرط اور لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کی بنیاد ہے۔
قریبی مدت میں، اس کا مقصد ملازمتوں کو اور مارکیٹ کو مستحکم کرنا اور لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔ مستقبل میں ، اسے ہمارے درمیانی سے طویل مدتی مقاصد اور طویل مدتی وژن کے ساتھ ہم آہنگ رہنا چاہیے۔
اس سال 15ویں پانچ سالہ منصوبے کا آغاز ہو رہاہے۔ 2035 تک "فی کس جی ڈی پی کو ایک اوسط سطح کے ترقی یافتہ ملک کے برابر بڑھانا" جیسے مقاصد کے حصول کے لیے، اگلی دہائی میں سالانہ ترقی کی درکار اوسط شرح 4.17 فیصد ہے۔ اس سال کا ترقیاتی ہدف اس سطح سے اوپر مقرر کیا گیا ہے، جو ترقی کو آگے بڑھانے کی تحریک اور اقدام کی عکاسی کرتا ہے۔
امکانات کیوں؟
ہمیں ارادے بلند رکھنے چاہئیں اور ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹے رہنا چاہیے - یہ نقطہ نظر چین کی ترقی کی صلاحیت کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ ہے۔
سالانہ خردہ فروخت کی مالیت 50 ٹریلین یوان ($7.25 ٹریلین) سے تجاوز کر گئی - یہ چین کی وسیع مارکیٹ کا ایک موقع ہے۔ اے آئی کمپنیز کی تعداد 6,000 سے تجاوز کر گئی، جبکہ بنیادی صنعت کا حجم صرف چند سالوں میں ایک ٹریلین یوان سے زیادہ ہو گیا - یہ عالمی جدت طرازی کے مرکز کی متحرک توانائی ہے۔ چین کی ترقی کی صلاحیت مسلسل مارکیٹ کے اداروں کی پیش گوئیوں کی حد میں یا اس سے بھی زیادہ رہتی ہیں۔
اس نئے دور کے بنیادی اصول کے طور پر اعلیٰ ترقیاتی معیارپر قائم رہتے ہوئے، اصلاحات اور جدت کے ذریعے ترقی کو آگے بڑھاتے ہوئے، اور اپنی "چار طاقتوں" کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے صلاحیت کو مکمل طور پر کھولتے ہوئے، یہ ہمیں اعتماد اور اس سے بھی زیادہ ، بھرپور عزم عطا کرتا ہے۔
حد کیوں ؟
وقت کے ساتھ دوڑنے اور تاریخ کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کے لیے، ہمیں ایک خاص رفتار کے بغیر چلنے کی اجازت نہیں ہے، اور نہ ہی ہمیں "قابلِ حصول" سے آگے جاناچاہیے۔ ہدف کو بہت کم مقرر کرنا اقدامات کو مکمل طور پر متحرک کرنے میں ناکام رہے گا اور درمیانی سے طویل مدتی منصوبوں کے ساتھ ہم آہنگی کھونے کا خطرہ ہوگا۔ اگر ہدف بہت زیادہ ہو، حقیقی نہ ہو ، تو یہ ہچکچاہٹ اور مشکل کا خوف پیدا کرے گا، یا یہاں تک کہ فوری نتائج اور قلیل مدتی فوائد کے لیے جلد بازی کی طرف مائل کرے گا۔
دیرینہ مسائل اور ابھرتے ہوئے چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے، ترقی کو زیادہ غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے اور اس کے لیے زیادہ بھرپور تحریک کی ضرورت ہے۔ ایک صدی میں نظر نہ آنے والی تبدیلیوں پر غور کریں - "ایک لمحے میں ہم ایک سرمئی گینڈے کا سامنا کرتے ہیں، اگلے لمحے ایک سیاہ ہنس کا۔" یا ترقی کے محرکات میں تبدیلی کو دیکھیں: یہ سب ایک رات میں نہیں ہو سکتا اور پرانے اور نئے کچھ وقت کے لیے ساتھ رہیں گے۔ خطرات کی روک تھام اور ساختی ایڈجسٹمنٹ دونوں کے لیے ضروری جگہ پیدا کرنے کے لیے وقت درکار ہے۔
"حدپر مبنی ضابطہ" ترقی کے لیے ایک کم از کم حد مقرر کرتا ہے جبکہ اوپر کی طرف لچک اور پالیسی میں تبدیلی کے لیے کافی گنجائش برقرار رکھتا ہے۔ یہ سب اعلیٰ ترقیاتی معیار کے یقین کو تحفظ دینے کے لیے ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہدف حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا؛ اس کے لیے مستقل اور ان تھک محنت کی ضرورت ہوگی۔
جشنِ بہار سے پہلے، ملک بھر میں مقامی سطح کے "دو اجلاس" منعقد ہوئے، جہاں بہت سے صوبوں نے ترقی کے اہداف کی حدیں مقرر کیں۔ مثال کے طور پر، جہ جیانگ اور آنہوئی نے اپنے اہداف کو 5 فیصد سے 5.5 فیصد جی ڈی پی کی ترقی پر قائم رکھا، جبکہ عملی طور پر بہتر نتائج کے لیے کوشش کرنے کا عہد بھی کیا۔ یہ بلند لیکن قابل حصول اہداف مقرر کرنے کی حکمت عملی ہے۔
" قدم بہ قدم آگے بڑھنا۔" یہ اپنے ترقی کے رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے صبر کی عکاسی کرتا ہے۔
چین کی ایک اہم اقتصادی قوت گوانگ دونگ کی اقتصادی ترقی 2025 کی پہلی تین سہ ماہیوں میں قومی اوسط سے کم رہی، لیکن یہ 2024 کے اسی دورانیے اور پورے 2024 کے مقابلے میں بہتر ہے۔ جنرل سیکریٹری شی جن پھنگ نے گزشتہ سال نومبر میں گوانگ دونگ کے دورے کے دوران اپنے خطاب میں جو بات کہی اس میں بصیرت کا خزانہ پوشیدہ ہے ، انہوں کہاکہ "اتنی بڑی بنیاد کے ساتھ، اس سطح کی ترقی بھی ایک اہم اضافے کی نمائندگی کرتی ہے۔ گوانگ دونگ کو اپنی ترقی کا موازنہ اپنے آپ کے ساتھ کرنے پر پر توجہ دینی چاہیے۔"
جیسے جیسے اقتصادی بنیاد مضبوط ہوتی ہے اور مجموعی پیمانہ بڑھتا ہے تو ترقی کی شرح قدرتی طور پر معتدل ہو جاتی ہے؛ یہ ترقی کا ایک عمومی قانون ہے۔ ترقی صرف مقداری توسیع نہیں ہے، بلکہ یہ ساختی بہتری اور معیار کی بہتری کے بارے میں بھی ہے یہ ہے ترقی کی سائنسی تفہیم۔ پچھلے پانچ سالوں میں، چین کی معیشت 36 ٹریلین یوان سے زیادہ بڑھ چکی ہے، جس نے دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں سے ایک کو مؤثر طریقے سے "دوبارہ تخلیق" کیا ہے، جبکہ ایک ترقی کی اوسط شرح کو برقرار رکھا ہے۔ اسی دوران، نئی معیاری پیداواری قوتوں کی ترقی تیز ہوئی ہے اور ایک جدید صنعتی نظام تشکیل پایا ہے ۔
"اپنی ترقی کا موازنہ خود اپنے سے ہی کرنا" اس سوچ کو ظاہر کرتا ہے کہ "انسان کو طویل مدتی نقطہ نظر اختیار کرنا چاہیے۔" پہلے سے بلند سطح سے مزید ترقی کے لیے، مقدار پر زور دینا ضروری ہے اور اس سے زیادہ اہم معیار پر۔ کیا ہم اور تیز رفتار حاصل کر سکتے ہیں؟ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم نہیں کر سکتے؛ مسئلہ یہ ہے کہ ہم کرنا نہیں چاہتے۔ نئے سال کا پہلا سبق گورننس کی کامیابیوں کے حصول میں میں فوری نتائج کے لیے بے صبری کو کم کرنے پر زور دیتا ہے ، جو انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
حقیقی اور غیر جانبدار ترقی کی کوشش کرنا اور اعلیٰ معیار کی پائیدار ترقی کو آگے بڑھانا۔ یہ دباؤ کے باوجود آگے بڑھنے اور جدت اور اعلیٰ معیار کے لیے کوشش کرنے کا عزم ظاہر کرتا ہے۔
چین میں آج، مقامی طور پر بڑے پیمانے پر اے آئی ماڈلز سخت مقابلے میں پھل پھول رہے ہیں اور نئی توانائی کی گاڑیاں ہر چھوٹی بڑی سڑک پر نظر آ رہی ہیں، جدت اور تخلیق اب نمایاں ہو رہی ہیں، جو ایک جھرمٹ بن رہی ہیں۔ اس دور میں، کوئی وجہ نہیں کہ ہم خود پر اعتماد نہ کریں اور نہ ہی کوئی ایسی کوئی وجہ ہے کہ ہم اپنی کوششوں کو مزید قوت کے ساتھ دوگنا نہ کریں۔
ہدف متعین کرنا اہم ہے، لیکن عمل کرنا بھی ضروری ہے؛ اعتماد رکھنا اہم ہے، لیکن حل بھی ضروری ہیں۔ ترقی کے مواقع، صلاحیتوں، اور فوائد کو مکمل طور پر حاصل کرتے ہوئے، اپنی توانائی کو اپنے معاملات کو اچھی طرح سے سنبھالنے پر مرکوز کرتے ہوئے، اپنے گھوڑوں کو قوت کے ساتھ آگے بڑھاتے ہوئے اور نئے سفر پر ہمت کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے، ہم یقیناً نئے معجزات تخلیق کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔



