
بیجنگ کی ڈسٹرکٹ پھنگ گو میں ، یوے چھیاویون (وسط میں) گاوں کی دیگر ساتھیوں کے ساتھ ایک لائیو سٹریمنگ سیشن کر رہی ہیں۔ (تصویر یوے چھیاویون کی جانب سے فراہم کی گئی ہے )
6مارچ (پیپلز ڈیلی آن لائن)یوے کو 2023 میں چین کی قومی عوامی کانگریس (NPC) کی نائب منتخب کیا گیاجس کے بعد انہیں متعدد اعزازی القابات ملے ، جن میں ملک کی پہلے دس کسانوں میں شامل ہونے کا اعزاز بھی ہے۔ انہوں نے ایک دہائی تک خود کو نئے سرے سے تشکیل دیا ، بطور کسان ایک نئی زندگی کے لیے انہوں نےشہری ایگزیکٹو کیریئر کو چھوڑ دیا۔ 2016 میں گھر واپس آنے کے بعد سے انہوں نے پھنگ گو کے مشہور آڑوؤں کو نئے بازاروں تک پہنچانے اور دیہی بحالی کو فروغ دینے میں مدد کی۔
رواں سال کے اجلاس کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ اس سال کے اجلاسوں کے لیے انہوں نے اپنے مشاہدات کی روشنی میں دو تجاویز پر توجہ دی ہے۔پہلی تجویز زرعی خدمات کے لیے مضبوط پالیسی حمایت کی درخواست ہے، تاکہ کسان ٹیکنالوجی، لاجسٹکس اور مارکیٹنگ میں پیشہ ورانہ مدد حاصل کر سکیں۔ اپنے آبائی شہر لیوجیا دیان ، جہاں سے انہوں نے اپنا کاروبار شروع کیا اس کے گاوں بے دیان کے بارے میں انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ یہاں ان کی کسان کوآپریٹو پہلے ہی پھلوں کی پیداوار دینے والے 3,000 سے زیادہ گھرانوں کو خدمات فراہم کر رہی ہے، لیکن ان خدمات کو پوری ڈسٹرکٹ کے مزید باغات تک پہنچانے کے لیے پالیسی حمایت ضروری ہے۔

یوے چھیاویون، دو سیشنز کے لیے تیار ہیں ۔ (تصویر یوے چھیاویون کی جانب سے فراہم کی گئی ہے )
ان کی دوسری تجویز دیہی سیاحت سے متعلق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں کافی تحقیق کی ہے اور انہیں اندازہ ہوا ہے کہ یہاں کے لوگ دیہی سیاحت کوترقی کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں ۔ اسی مناسبت سے حالیہ اجلاسوں میں انہوں نے دیہی سیاحت کو تعلیمی دوروں کے ساتھ ضم کرنے کے لیے مزید معاونت کی سفارش کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ کسان امید کرتے ہیں کہ انہیں منصوبہ بندی، ڈیزائن اور مارکیٹ تک رسائی میں زیادہ عملی مدد ملے، تاکہ خوبصورت گاؤں صرف سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ ہی نہ کریں بلکہ اس آمد و رفت کو مقامی رہائشیوں کے لیے مستقل آمدنی میں تبدیل کیا جا سکے۔
یوے چھیاویون نے پھنگ گو آڑو کا گفٹ باکس بھی دکھایا، جس کے اندر آڑو کی مختلف پراڈکٹس ترتیب سے رکھی گئی تھیں جن میں ، خشک آڑو، آڑو کا رس، آڑو کی لکڑی کے دستکاری اور آڑو کے پھول کے بروچ۔ یہ باکس ، کاشت، پروسیسنگ، فروخت اور تفریح کو یکجا کرنے کا ماڈل ہے۔
دیہی صنعتوں کے حوالے سے ان کی یہ سمجھ بوجھ ایک دہائی پہلے کیے گئے ایک سوچے سمجھے انتخاب سے تشکیل پائی ۔ یوے کا بچپن اپنے والدین کے ساتھ آڑو چننے اور بیچنے میں گزرا، اس کے بعد وہ اپنے آبائی شہر کو چھوڑ کر انٹرنیٹ اور میڈیا کے شعبوں میں کیریئر بنانے کے لیے نکل گئیں۔ لیکن جب چین نے زرعی جدت کو فروغ دینے کی کوششیں تیز کیں، تو ان کی آبائی گھر واپسی کی طویل عرصے سے دبی خواہش دوبارہ جاگ اٹھی۔
2016 میں جب وہ واپس آئیں تو وہ اپنے ساتھ وہ نیٹ ورکس اور نقطہ نظر لائیں جو انہوں نے سالوں میں جمع کیا تھا۔ اس نے بے دیان گاؤں میں ایک آڑو کے باغ سے آغاز کیا اور آہستہ آہستہ اسے بہت بڑا کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے یہ دیکھ اور سمجھ لیا تھا کہ زراعت اب اچھے موسم کی دعا کرنے کا قدیم کھیل نہیں رہا۔ یہ ایک حقیقی صنعت بن رہی ہے، جس کا ایک حقیقی مستقبل ہے۔
بہار کے آغاز پر، درختوں کے درمیان مٹی کے سینسر اور سمارٹ آبپاشی کے آلات کی قطاریں نظر آرہی ہیں ، یہ ٹیکنالوجی بے دیان گاؤں میں آڑو کی کاشت کے طریقے کو بنیادی طور پر تبدیل کر چکی ہے۔
پہلے پانی اور کھاد اندازے سے دیا جاتا تھا ، اب ڈیٹا کو بتا دیا جاتا ہے کہ کیا کرنا ہے۔ ابتدائی دنوں میں، یہ آلات زیادہ تر کسانوں کے لیے غیر ملکی ہارڈ ویئر کی طرح لگتے تھے، اس لیے یوے نے اپنی جیب سے آلات خریدے اور انہیں اس وعدے کے ساتھ مفت تقسیم کیا کہ کم پیداوار سے ہونے والے نقصانات کو وہ خود پورا کریں گی۔ آہستہ آہستہ، زیادہ سے زیادہ گھرانے ان نئی ٹیکنالوجیز کو اپنانے لگے۔

یوے چھیاویون پھنگ گو آڑو دکھا رہی ہیں۔(تصویر یوے چھیاویون کی جانب سے فراہم کی گئی ہے )
ان کی کوآپریٹو ہر سال تازہ آڑو کی پیداوار اور فروخت بڑھا رہی ہے۔ آڑو اب ملک بھر میں 48 گھنٹوں کے اندر صارفین تک پہنچتے ہیں اور بیرون ملک مارکیٹوں میں بھی،اس کی کل فروخت 100 ملین یوان ($14.58 ملین) سے تجاوز کر گئی ہے۔
کوآپریٹو کے ای کامرس پلیٹ فارم کے ذریعے، اس نے پھلوں کے 1,500کسانوں کو ملازمتیں فراہم کرنے میں مدد کی اور چار سالوں میں 51,000 افراد کے لیے ای کامرس کی آن لائن اور آف لائن تربیت فراہم کی۔ اس نے 80 سے زیادہ دیہی لائیو سٹریمرز کی بھی تربیت کی، جس سے 3,000 سے زیادہ زرعی گھرانے ڈیجیٹل زراعت کے آلات استعمال کرنے کے قابل ہوئے۔
مقامی کسان یوے چھنگ گوئے کاکہنا ہے کہ جب انہوں نے اس کوآپریٹو کو قائم کیا تو ہم سب پیسہ ضائع ہوجانے کے بارے میں فکر مند تھے ہم میں سے کسی کو بھی یہ نہیں معلوم تھا کہ اس سے کیا ہوگا۔ لوگوں کی تسلی کے لیے یوے نے تکنیکی ماہرین کی قیادت کی گھر گھر جا کر ، عملی رہنمائی فراہم کی اور یکساں خریداری، یکساں فروخت اور ایک یقینی قیمت کا ایک پکا وعدہ کیا ۔
یوے چھنگ گوئے کا کہنا ہے کہ ان کے گھرانے کی آمدنی گزشتہ سالوں کے مقابلے میں دگنا ہو گئی ہے۔ یوے کی قیادت میں، آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ ایک زمین پر مضبوطی سے کھڑے ہیں۔اس کسان کی مثال سے متاثر ہو کر، مقامی کسانوں کی بڑی تعداد اس کوآپریٹو میں شامل ہوچکی ہے، اور ٹیکنالوجیز، فروخت کے چینلز اور برانڈ کے منافع میں حصے دار ہے۔ آج یُوے کا کوآپریٹو قومی ماڈل بن چکا ہے۔
یوے کی قیادت میں، کم آمدنی والے زرعی گھرانوں کی اوسط سالانہ آمدن اب 60,000 سے 70,000 یوان ہے، جو ہدف ایک وقت میں 100,000 یوان سالانہ کی حد سے باہر نظر آتاتھا، اب وہ حقیقت میں ممکن ہو چکا ہے۔



