مقامی وقت کے مطابق 7 مارچ کو، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک تقریر کے دوران قوم سے متحد ہو کر ملک کا دفاع کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ ایران کبھی بھی غیر مشروط طور پر ہتھیار نہیں ڈالے گا۔
6 تاریخ تک امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران کے خلاف فوجی حملوں کو ایک ہفتہ مکمل ہو چکا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نہ صرف ایران کے فوجی کمانڈ سسٹم کو مفلوج کرنے میں ناکام رہے ہیں بلکہ ایران کی جوابی کارروائی کی صلاحیت پر بھی قابو نہیں پا سکے۔ تنازعہ طول پکڑنے کا رجحان واضح ہوتا جا رہا ہے۔ امریکی فوجی رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک امریکی فوج نے ایران میں تقریباً دو ہزار اہداف کو نشانہ بنایا ہے، تیس سے زائد ایرانی جنگی جہازوں کو تباہ کر دیا ہے اور ایک ایرانی ڈرون بردار جہاز کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی فضائی حملوں میں بڑی تعداد میں ایرانی میزائل لانچرز اور ملٹری کمانڈ سینٹرز بھی تباہ ہو گئے ہیں۔ تاہم امریکہ اور اسرائیل کو ابھی تک ایران پر مطلق فضائی برتری حاصل نہیں ہے۔ دریں اثنا، سپریم لیڈر اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف سمیت درجنوں اعلیٰ ایرانی عہدیداروں کی ہلاکت کے باوجود، ایران کے منظم فوجی جوابی حملوں، سفارتی سرگرمیوں اور تشہیری مہم کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ایرانی قیادت اور کمانڈ کا نظام مفلوج نہیں ہوا ہے اور نہ ہی حکومت کے اندر بڑے پیمانے پرافراتفری کے کوئی آثارسامنے آئے ہیں۔ ایران کے پاس اب بھی بڑی تعداد میں میزائل اور ڈرون حملوں کی صلاحیت اور ایرانی پانیوں میں ناکہ بندی کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔چونکہ ایران کے میزائل ذخائر اور پیداواری مراکز زمین کے اندر گہرائی میں قائم ہیں، اس لیے امریکہ اور اسرائیل کے لیے انہیں مکمل طور پر تباہ کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔
دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ، عراقی ملیشیا، اور یمن میں حوثی باغیوں نے ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ کارروائی کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس صورتحال کے باعث خدشہ ہے کہ یہ تنازع مزید وسیع اور طویل ہو سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جنگ کی پیش رفت اور عوامی دباؤ دونوں کے لحاظ سے، "4 سے 5 ہفتے" امریکہ ایران تنازع میں امریکی حکومت کے لیے کلیدی "سرخ لکیر" ثابت ہو سکتے ہیں۔



