پاکستان کے وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ آپریشن غضب للحق کے دوران 8 مارچ کی سہ پہر چار بجے تک پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے 583 افغان شدت پسندوں کو ہلاک کیا جبکہ 790 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ان کارروائیوں میں 242 چوکیوں کو تباہ کیا گیا اور 38 پر قبضہ کر لیا گیا۔ فضائی حملوں میں افغانستان میں 64 مقامات کو نشانہ بنایا گیا، اور اس دوران 213 ٹینکس، بکتر بند گاڑیوں اور توپ خانوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل افغان وزیر دفاع محمد یعقوب مجاہد نے افغان میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان کا پاکستان کے ساتھ تنازعہ بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن نے 3 تاریخ کو متنبہ کیا تھا کہ اگر تنازعہ جاری رہا تو اس سے نہ صرف افغانستان میں انسانی بحران مزید بڑھے گا بلکہ اس کا اثر ارد گرد کے علاقوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔



