مقامی وقت کے مطابق 9 تاریخ کی شام، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا کے شہر میامی میں ٹرمپ ڈورل گالف کلب میں ایک پریس کانفرنس کی۔
اس موقع پر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ کی عسکری کارروائی ممکنہ طور پر "جلد ختم" ہو سکتی ہے، لیکن "اس ہفتے نہیں"۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہاز رانی کی سرگرمیوں کے بارے میں، ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران خام تیل کی عالمی فراہمی کو متاثر کرے گا تو اس پر مزید شدید حملہ کیا جائے گا۔
ایران کی پاسداران انقلاب نے 10 تاریخ کی صبح امریکی صدر ٹرمپ کے ایران کی صورتحال سے متعلق بیانات کے جواب میں کہا کہ جنگ کا اختتام ایران کے فیصلے پر منحصر ہوگا۔
امریکہ، اسرائیل اور ایران کی جنگ کے اثرات کی وجہ سے، بین الاقوامی خام تیل کی فیوچر پرائس مشرقی امریکی وقت کے مطابق 8 تاریخ کی شام شروع ہونے والے نئے ہفتے کی تجارت میں 100 ڈالر فی بیرل کی حد کو عبور کر گئی ہے، اور یہ تین سال سے زائد عرصے میں پہلی بار ہوا ہے۔
9 تاریخ تک، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، ہنگری، کروشیا سمیت متعدد ممالک نے یا تو اسٹریٹجک ذخائر استعمال کرنے کی تیاری کر لی ہے یا قیمتوں کی بالائی حد مقرر کرنے جیسے اقدامات اٹھا لیے ہیں۔ گروپ آف سیون (جی 7) نے 9 تاریخ کی شام ہنگامی اجلاس منعقد کیا، جس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ تمام فریق عالمی توانائی کی فراہمی کی حمایت میں ذخائر جاری کرنے جیسے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔



