مقامی وقت کے مطابق 9 تاریخ کو، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان کی صورتحال پر غور کیا۔ اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو چھونگ نے کہا کہ عوام کی زندگی میں بہتری افغانستان کی موجودہ اولین ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چین کا ماننا ہے کہ اس وقت افغانستان انسانی ہمدردی، ترقی، انسداد دہشتگردی اور انسانی حقوق وغیرہ جیسی کئی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ افغانستان میں تقریباً 22 ملین افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے اور 30 ملین سے زائد افراد کے لیے یومیہ لاگت ایک امریکی ڈالر سے کم ہے۔ فو چھونگ کا کہنا تھا کہ جنگ کے دوران بچے ہوئے دھماکہ خیز مواد کی موجودگی سے شہریوں کو مسلسل نقصان پہنچ رہا ہے، لاکھوں مہاجرین اپنے علاقوں میں واپس آچکے ہیں، قدرتی آفات کثرت سے پیش آرہی ہیں اور یہ سب عوامل مل کر افغانستان میں انسانی بحران اور ترقی کی مشکلات کو بڑھا رہے ہیں۔
چینی نمائندے کا کہنا تھا کہ چین امید کرتا ہے کہ افغان حکومت کھلے، روا دارانہ اور ذمہ دارانہ رویہ کا مظاہرہ کرے گی، متعلقہ پالیسیوں میں جلد تبدیلی لائے گی اور خواتین سمیت عوام کے بنیادی حقوق کا مؤثر تحفظ کرے گی۔
انہوں نے یہ بھِی کہا کہ حال ہی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازع بڑھا ہے، جس سے دونوں طرف بھاری جانی نقصان ہوا ہے، جس پر چین کو گہری تشویش اور شدید رنج ہے ۔انہوں نے فریقین سے اپیل کی کہ تحمل سے کام لیں، جلد از جلد جنگ بندی کریں، اور مذاکرات کے ذریعے اختلافات کو مناسب طریقے سے حل کریں۔



