بیجنگ میں منعقدہ نیوز کانفرنس میں نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن کے نائب سربراہ ، جینگ بے نے قومی اقتصادی و سماجی ترقی کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-30) کے مسودے کے خاکے کے اہم نکات کی وضاحت کر تے ہوئے کہا کہ چین اپنی اعلیٰ معیار کی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے، جس میں ملک کے نئے پانچ سالہ منصوبے کے مطابق اقتصادی ڈھانچے کی اصلاح اور معیار میں بہتری پر توجہ دی گئی ہے۔
جینگ بے کے مطابق ، مسودے کا خاکہ اگلے پانچ سالوں کے لیے مقرر کردہ جی ڈی پی کے ترقیاتی ہدف کو " حالات کے مطابق سالانہ ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ، ایک معقول حد میں رہتا ہے" کے مطابق بیان کرتا ہے۔ یہ ہدف تمام سٹیک ہولڈرز کی ٹھوس ترقی کی طرف رہنمائی کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، اس طرح ترقی کے ماڈل کو تبدیل کرنے، ساختی ایڈجسٹمنٹ کرنے اور اصلاحات کو گہرا کرنے کے لیے پالیسی کی ضروری گنجائش چھوڑتا ہے۔
چین کے اعلی ترقیاتی معیار کے حصول میں ایک اہم قدم کے طور پر، نئی معیاری پیداواری قوتوں کی ترقی کو مسودے کے خاکے میں ترجیح دی گئی ہے، جس میں پالیسی سازوں نے تکنیکی اور صنعتی جدت کے انضمام پر زور دیا ہے۔
بائی جِنگ یو، این ڈی آر سی کے شعبہ اختراع و ہائی ٹیک ترقی کے ڈائریکٹر، نے کہا کہ ملک بنیادی تحقیق کو مضبوط کرے گا اور ایک اسٹریٹجک، دوراندیش اور منظم طریقہ اپنائے گا۔بائی نے کہا، "ہم سائنس و ٹیکنالوجی کے قومی پروگرامز میں کاروباری اداروں کی اہم مشترکہ تکنیکی ضروریات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے تکنیکی جدت کے اہم قومی فیصلوں میں اداروں کی شمولیت کو بڑھائیں گے یہ، تیکنیکی اختراعات میں کاروباری اداروں کے مرکزی کردار کو مستحکم کرنے کی کوششوں کو اجاگر کرتا ہے۔ بائی کا کہنا تھا کہ تیز رفتار تکنیکی انقلاب اور صنعتی تبدیلی کے پس منظر میں، نئی ٹیکنالوجیز، صنعتوں اور کاروباری ماڈلز کا ابھرنا چین کے لیے اس کی جدیدیت کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے "بے مثال مواقع" فراہم کر رہا ہے۔
مسودے کے خاکے کے مطابق، حکام مکمل طور پر "اے آئی پلس" انیشئیٹو کو نافذ کریں گے، جو مصنوعی ذہانت کو سائنسی جدت، صنعتی ترقی، ثقافت، عوامی فلاح و بہبود اور سماجی حکمرانی کے ساتھ گہرائی سے مربوط کرے گا۔ مقصد یہ ہے کہ اے آئی، صنعتی ایپلیکیشنز کی "کمانڈنگ ہائیٹس" کو حاصل کیا جائے اور متنوع شعبوں کو مکمل طور پر بااختیار بنایا جائے۔
قومی عوامی کانگریس کے نائب ، چین کے اعلی قانون ساز اور چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے ادارہ برائے سائنس وترقی کے صدر ،پھان جیاؤفینگ نے کہا کہ ابھرتے ہوئے شعبوں کی ترقی نے چین کو عالمی سطح پر اہم فوائد فراہم کیے ہیں،ہم نے نیو 3 -الیکٹرک گاڑیاں، لیتھیم آئن بیٹریز اور فوٹو وولٹک مصنوعات کی ترقی کو دیکھا ہے اور اگلے پانچ سالوں میں، ایک اور 'نیا trio' ابھرنے کی توقع ہے۔
نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن کے سیکریٹری جنرل، یوان دا کہتے ہیں کہ مقامی مارکیٹ کو مضبوط کرنا ترجیحات میں شامل ہے ، جس کے لیے مقامی طلب کو بڑھانے، رسد کو بہتر بنانے اور داخلی گردش کو ہموار کرنے کے لیے پالیسیز بنائی جائیں گی۔ انہوں نے خدمات کے شعبے کو بہتر بنانے اور بڑھانے، پالیسی سپورٹ سسٹم کو بہتر کرنے اور پیداواری خدمات کی صنعت میں خامیوں کو دور کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
بی آئی نارویجن بزنس اسکول میں پروفیسر آف سٹریٹجیز ، کارل فئے کی رائے میں، چین کے پاس مقامی کھپت بڑھانے کی گنجائش موجود ہے، کیونکہ چینی لوگ اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ بچاتے ہیں جس کے مقابلے میں کئی دوسرے ممالک کے لوگ کم بچت کرتے ہیں۔



