• صفحہ اول>>ثقافت و سیاحت

    قدیم یی کڑھائی، جس نے دیہی بحالی میں نئی روح پھونک دی

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-03-11

    11مارچ (پیپلز ڈیلی آن لائن)نفیس نمونوں اور پیچیدہ کڑھائی کے ساتھ، یی کڑھائی ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے سے چین کے جنوب مغربی صوبے یوننان کے یی قومیتی گروہ میں نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہے۔ اسے قومی سطح کے غیر مادی ثقافتی ورثےکے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور یہ فن طویل عرصے سے یی ثقافت کا ایک اہم نمائندہ رہا ہے۔آج، یہ قدیم روایت نئی زندگی پا رہی ہےاور گھریلو کڑھائی سے ایک کامیاب ثقافتی صنعت میں تبدیل ہو رہی ہے۔

    7 مارچ 2026 بیجنگ۔ 14ویں قومی عوامی کانگریس کے چوتھے اجلاس میں این پی سی کی ایک نائب اور چھوشیونگ یی ایمبرائیڈری ایسوسی ایشن کی صدر جین روی روی ،یوننان کے وفد کےمشاورتی سیشن میں یی کڑھائی کا ایک منفرد نمومہ متعارف کروا رہی ہیں ۔ (تصویر: شو شیاوشوان/چائنا.او آر جی .سی این)

    7 مارچ 2026 بیجنگ۔ 14ویں قومی عوامی کانگریس کے چوتھے اجلاس میں این پی سی کی ایک نائب اور چھوشیونگ یی ایمبرائیڈری ایسوسی ایشن کی صدر جین روی روی ،یوننان کے وفد کےمشاورتی سیشن میں یی کڑھائی کا ایک منفرد نمومہ متعارف کروا رہی ہیں ۔ (تصویر: شو شیاوشوان/چائنا.او آر جی .سی این)

    قومی عوامی کانگریس کی ایک نائب اور چھوشیونگ یی ایمبرائیڈری ایسوسی ایشن کی صدر جین روی روی کے لیے یہ کڑھائی ایک ذاتی اور جذباتی وابستگی رکھتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میری ماں کبھی اسکول نہیں گئی، لیکن ہمارے کالج کی تعلیم کے دوران ہر ایک ٹانکے کے ذریعے انہوں نے میری بہن اور میری معاونت کی ہے۔

    چھو شیونگ یی خود اختیار پریفیکچر کے گاوں آنالی گاؤں میں پروان چڑھتے ہوئے ، انہوں نے چھوٹی عمر میں ہی اپنی ماں سے کڑھائی سیکھ لی۔ لیکن جیسے جیسے وہ بڑی ہوئیں انہیں احساس ہوا کہ بہت کم نوجوان اس فن کو سیکھنے کے لیے وقت دینا چاہتے ہیں۔انہیں فکر ستانے لگی کہ اگر ہم لوگوں کو اس کی طرف واپس نہیں لائے تو یہ مہارت آہستہ آہستہ ختم ہو سکتی ہے۔اس فکرمندی نے ان سے ایک جرات مندانہ فیصلہ کروایا ۔ 2014 میں انہوں نے شہر میں اپنی نوکری چھوڑ ی اور اپنے آبائی شہر واپس آ کر کڑھائی کا کاروبار شروع کیا۔ابتدائی دن مشکل تھے، کڑھائی کی بہت سی مصنوعات روایتی طرز کی تھیں اور وہ مارکیٹ میں جگہ بنانے میں ناکام رہیں، جس کی وجہ سے کڑھائی کے ان مقامی دستکاروں کی آمدنی صرف 500 سے 600 یوان (70 سے 85 ڈالر) ماہانہ رہ گئی ، ان کے پاس نہ تو کام کرنے کی کوئی اور جگہ تھی اور نہ ہی کوئی کام شروع کرنے کے لیے سرمایہ۔ایسے وقت میں مقامی حکومت کی مدد بہت اہم ثابت ہوئی۔ حکام نے ورکشاپس قائم کرنے میں مدد کی اور مخصوص مالی پالیسیز متعارف کروائیں، جن میں یی کڑھائی کاکاروبار کرنے کے لیے قرضے اور انشورنس خدمات شامل تھیں۔

    جین روروی نے چھو شیونگ کے یی دیہات کا سفر کیا، جہاں انہوں نے کڑھائی کرنے والے تجربہ کار لوگوں سے مل کر روایتی نمونوں کو جمع کیا اور کلاسیکی کڑھائی کی تکنیکوں کو محفوظ کیا۔ انہوں نے سیاہ، سرخ اور پیلے رنگوں کی روایتی کلر سکیم کو برقرار رکھتے ہوئے جدید ڈیزائن کے عناصر متعارف کرانا شروع کیے اور زیورات اور آرائشی اشیاء جیسے نئی مصنوعات تیار کیں۔

    اس سال بیجنگ میں منعقدہ قومی قانون ساز اجلاس میں ، جین روی روی نے یِی کڑھائی والا ایک سبز رنگ کا لباس پہنا۔ان کا کہنا ہے کہ سبز رنگ ،امید اور تجدید کی علامت ہے اور انہیں امید ہے کہ مزید نوجوان ہمارے ساتھ غیر مادی ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے اور فروغ دینے میں شامل ہوں گے۔

    جین روی روی کا کاروبار تیزی سے بڑھا ہے۔ 2025 میں، ان کی کمپنی نے 17 ملین یوان سے زیادہ کی آمدنی حاصل کی۔لیکن ان کا مقصد کبھی بھی ذاتی دولت جمع کرنا نہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک شخص کا امیر ہونا زیادہ معنی نہیں رکھتا،حقیقی خوشحالی تب آتی ہے جب سب مل کر خوشحال ہوں۔

    جین روی روی نے کئی برسوں کے دوران ،کڑھائی کی 20 سے زیادہ ورکشاپس قائم کرنے میں معاونت کی اور 2,000 سے زیادہ مقامی خواتین کو تربیت دی ہے، جبکہ 32 خواتین کو اپنے کاروبار شروع کرنے میں بھی مدد فراہم کی ہے۔ان کی کمپنی معذور افراد کے لیے مفت تربیت بھی فراہم کرتی ہے اور تقریباً 100 خصوصی افراد نے اپنی مرضی کے مطابق تربیتی پروگرام حاصل کیے ہیں۔کڑھائی کرنے والے دستکاروں کا کہنا ہے کہ یہ فن انہیں اپنے گھر میں رہتے ہوئے اپنے خاندانوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے آمدن کا موقع فراہم کرتا ہے۔یی کڑھائی کی ترقی نے علاقائی معیشت کو فروغ دیا ہے۔

    حکومتی معاونت نے یی کڑھائی کا برینڈ تشکیل دینے میں مدد فراہم کی ۔ 2025 میں، چھو شیونگ کی صنعت نے 344 ملین یوان مالیت کی پیداوار حاصل کی، جس میں تقریباً 62,000 کڑھائی کرنے والوں نے اس فن کے ذریعے سالانہ 20,000 سے 40,000 یوان اضافی کمایا۔چھو شیونگ سےباہر نکل کر یی کڑھائی نے عالمی سٹیج پر قدم رکھ دیا ہے۔ جن روی روی نے میلان، نیو یارک اور پیرس فیشن ویک میں اپنے ڈیزائن پیش کیے ہیں، جب کہ یی کڑھائی کی تشہیر کے 30 سے زیادہ مراکز بیرون ملک قائم کیے گئے ہیں۔

    2023 میں، ملبوسات کی ایک برطانوی کمپنی نے سوشل میڈیا پر مختصر ویڈیوز کے ذریعے روایتی یی لباس دریافت کیا تھا اور جلد ہی جین روی روی کو یی ملبوسات کا پہلا بین الاقوامی آرڈر ملا جو کہ یی ملبوسات کے 6,500 سیٹ ی کا تھا جن کی مالیت تقریباً 3 ملین یوان تھی۔ اسی سال، جین کو این پی سی کی نائب منتخب کیا گیا اور تب سے، وہ ان دستکاروں کی آواز کو قومی سطح پر پہنچا رہی ہیں جب کہ قومیتی ورثے کی مختلف دستکاریوں، بشمول بائی ٹائی اینڈ ڈائی اور ڈولونگ کمبلوں کے مابین ، زیادہ تعاون کی وکالت کر رہی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ مختلف قومیتی ثقافتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں اور یہ سب مل کر چینی ثقافت کا بھرپور تنوع تشکیل دیتی ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یی کڑھائی کی ترقی چین کے ثقافتی شعبے میں ایک وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔

    7 مارچ 2026 بیجنگ۔ 14 ویں قومی عوامی کانگریس کے چوتھے اجلاس کے دوران این پی سی کی نائب اور چائنیز اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے غیر مادی ثقافتی ورثے کے تحقیقی مرکز کے ماہرین کی کمیٹی کی سربراہ، بامو چھوبو مو یوننان کے وفد کی مشاورت کے دوران China.org.cn کے ساتھ گفتگو کر رہی ہیں۔ (تصویر: شو شیاوشوان/چائنا.او آر جی .سی این)

    7 مارچ 2026 بیجنگ۔ 14 ویں قومی عوامی کانگریس کے چوتھے اجلاس کے دوران این پی سی کی نائب اور چائنیز اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے غیر مادی ثقافتی ورثے کے تحقیقی مرکز کے ماہرین کی کمیٹی کی سربراہ، بامو چھوبو مو یوننان کے وفد کی مشاورت کے دوران China.org.cn کے ساتھ گفتگو کر رہی ہیں۔ (تصویر: شو شیاوشوان/چائنا.او آر جی .سی این)

    این پی سی کی نائب اور چائنیز اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے تحقیقی مرکز برائے غیر مادی ثقافتی ورثہ کے کے ماہرین کی کمیٹی کی سربراہ، بامو چھوبو مو کا کہنا ہے کہ یی کڑھائی ثقافتی پروگرامز اور صنعتوں کا ایک امتزاج ہے۔آج یہ ،ایک روایتی دستکاری سے ثقافتی اور تخلیقی صنعت کی جانب ترقی کر رہی ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز بھی غیر مادی ثقافتی ورثے کو خاص طور پر نوجوان نسل میں فروغ دینے کے حوالے سے ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کی رائے میں ڈیجیٹل ٹولز بنیادی طور پر مواصلات اور نظر میں آنے کے امکان کو وسیع کرتے ہیں اور ورثے کے تحفظ کے لیے وسیع امکانات فراہم کرتے ہیں۔"

    جین روی روی کے لیے، مشن سادہ ہے۔

    جین امید کرتی ہیں کہ دنیا بھر کے مزید لوگ یی کڑھائی کے ذریعے چین کیقومیتی ثقافتوں کی خوبصورتی کے بارے میں جانیں گے۔ وہ اپنے آبائی شہر میں، مزید مقامی خواتین کی مدد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ وہ خواتین بہتر زندگی گزار سکیں اور صدیوں پرانی دستکاری کو اگلی نسلوں میں منتقل کرتی رہیں۔وہ کہتی ہیں کہ دیہی بحالی کے راستے پر، ہم خوشی کے نئے مناظر کو بُننے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

    ویڈیوز

    زبان