
6 مارچ ۔نیشنل پیپلز کانگریس کے نائب اور ملک کی اعلیٰ قانون ساز اسمبلی کے رکن، یِن ہینگ بن ، چودہویں این پی سی کے چوتھے اجلاس کے دوران ایک میٹنگ میں خطاب کر رہے ہیں۔ (تصویر/وانگ من)
11مارچ (پیپلز ڈیلی آن لائن)6 مارچ کو 14ویں این پی سی کے چوتھے اجلاس کے دوران ایک میٹنگ میں ،نیشنل پیپلز کانگریس کے نائب یِن ہینگ بن نے کہا کہ حوا جیانگ گرینڈ کینین برِج نے آن شون (جنوب مغربی چین کے صوبے گوئے جو کا شہر ) میں اعلیٰ معیار کی سیاحتی ترقی کے لیے ایک نئی راہ کھول دی ہے۔ اس سے کینین کے پار سفر کا وقت دو گھنٹوں سے گھٹ کر محض دو منٹ کا ہو گیا ہے۔
دریائے بئے پھان سے 625 میٹر بلندی پر 2,890 میٹر لمبے اس سٹرکچر سے نہ صرف آن شون کی حیثیت گوئے جو کے اربن کلسٹر میں ایک مرکز کے طور پر تبدیل ہو گئی ہے، بلکہ یہ دنیا کے سامنے صوبے کا ایک نیا شاندار "لینڈ مارک " بھی ہے۔
یِن ہینگ بن کے لیے، پل کی اہمیت کبھی بھی صرف یہ نہیں تھی کہ اس کے ذریعے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچا جائے گا بلکہ ان کی نظر میں " سیاحت" کا پہلو بھی تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہاں سے ہوانگ گوشو آبشار صرف آدھے گھنٹے کی دوری پر ہے ، یہ پل اور آبشار آن شون کے منفرد مواقع ہیں اور یہ اس بات کی گواہی بھی ہیں کہ کس طرح سیاحت اور بنیادی ڈھانچے کو سمجھداری کے ساتھ یکجا کیا جا سکتا ہے۔
جشن بہار کی حالیہ تعطیلات کے دوران ، حوا جیانگ گرینڈ کینین برِج کے سیاحتی علاقے میں 550,000 سیاحوں کی آمد ہوئی اور نائٹ لائٹ شوز نے سیاحوں کے قیام کی مدت کو اوسطاًچار گھنٹوں سے زیادہ بڑھا دیا۔ یِن ہینگ بن کے مطابق، آن شون ، اس پل کو ایک مرکز کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ اسے ہوانگ گوشو آبشار کے دلچسپ نائٹ ٹورز، آن شون کے قدیم شہر کے زندہ دل ماحول اور منگ شاہی دور (1368–1644) کی ثقافت کے ساتھ منسلک کیا جا سکے، تاکہ سیاحوں کے پاس تفریح کے لیے بہت کچھ ہو، زیادہ دیر تک رہنے کی وجوہات ہوں، اور ان کے خرچ کرنے کے مزید مواقع ہوں۔
مقامی لوگوں کی زندگیوں پر اس پل کی تعمیر کے اثرات بھی واضح نظر آرہے ہیں۔ جب سے یہ پل کھلا ہے ،آس پاس کے علاقے میں 200 سے زیادہ ریستوران اور بی این بیز قائم ہو چکے ہیں، تقریباً 1,000 مقامی رہائشیوں کو ملازمت ملی ہے اور کئی مزدور اپنے کاروبار شروع کرنے کے لیے واپس گھر آ گئے ہیں۔ وہ گاؤں جو کبھی خاموش اور نظروں سے اوجھل تھے ، اب نئی زندگی پا رہے ہیں۔
یِن ہینگ بن نے بہت ہی پتے کی بات کہی کہ ، عام لوگوں کو اس سے کیا فائدہ ہوا؟ کیا ان علاقوں کے زیادہ تر لوگ وہیں آمدن کے مواقع پا سکتے ہیں کہ جہاں وہ پلے بڑھے؟ اس کا مثبت جواب ہی سیاحتی صنعت کی کامیابی کا حتمی پیمانہ ہے۔



