13مارچ (پیپلز ڈیلی آن لائن)11 مارچ کو ،چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی چودہویں قومی کمیٹی کے رکن اور بیجنگ یونیورسٹی آف پوسٹس اینڈ ٹیلی کمیونیکیشنز کے صدر ،شو کھن نے طلبہ اور اساتذہ دونوں کے لیے تعلیم دوبارہ کس طرح تشکیل پا رہی ہے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت نے تعلیم کو بڑے پیمانے پر اور ذاتی نوعیت کی صلاحیت کی نشوونما کے انضمام کے ذریعے تبدیل کر دیا ہے۔

11 مارچ، بیجنگ ۔چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی چودہویں قومی کمیٹی کے رکن،شو کھن ممبرز کوریڈور میں بات چیت کر رہے ہیں۔(سی جی ٹی این)
شو کا کہنا ہے کہ اے آئی نے سیکھنے کی رفتار کو تبدیل کر دیا ہےمزید یہ کہ ماضی میں یکساں تدریسی عمل کے انتظامات ہر فرد کو مدنظر نہیں رکھ سکتے تھےلیکن، اے آئی ہر سیکھنے والے کی سیکھنے کی پیش رفت کو حقیقی وقت میں جانچ سکتا ہے اور ہر صورت حال کی بنیاد پر سیکھنے کا راستہ ترتیب دے سکتا ہے۔
بیجنگ یونیورسٹی آف پوسٹس اینڈ ٹیلی کمیونیکیشنز( بی یو پی ٹی) کے تیار کردہ اے آئی پلیٹ فارم کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم ایک حقیقی تجربہ کار استاد کی طرح کام کرتا ہے، جو طلبہ کو ہر قدم پر رہنمائی دیتا اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت سے سوچنے کی صلاحیت تک لے جانے میں ان کی مدد کرتا ہے۔ اے آئی، معیار کے مطابق بنانے کی زنجیروں سے آزاد ہو تا ہے اور انفرادی تدریس کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے لیے، اے آئی انہیں بڑے اور متعدد دہرائے جانے والے کاموں سے نجات دلاتا ہے جس سے وہ ہر طالب علم کی نشوونما پر زیادہ توجہ دے سکتے ہیں۔
بی یو پی ٹی کے ایک اور ای آئی پلیٹ فارم پر، اساتذہ اسکرین رائٹرز کی طرح کام کرتے ہیں، حقیقی منظرنامے تخلیق کرتے ہیں ،طلبہ مرکزی کردار بن جاتے ہیں، عمیق مشقوں کے ذریعے مہارتوں کو ترقی دیتے ہیں، جب کہ اے آئی مختلف ورچوئل ایکسپرٹ کردار ادا کرتا ہے۔
شو کھن کے مطابق، اے آئی اساتذہ کی جگہ نہیں لیتا۔ یہ انہیں علم دینے والے لیکچرار سے صلاحیتوں کو فروغ دینے والے کردار میں تبدیل ہونے میں مدد دیتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تنبیہ کی کہ اے آئی کو معتدل اور معقول انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے، جب کہ اس پر اس حد تک انحصار سے بچنا چاہیے جو تنقیدی سوچ کو کمزور کرے۔
شو کھن کی رائے میں ،مستقبل میں تعلیم کھلی، مشترکہ، ورچوئل-رئیل ہم آہنگی ، ڈیٹا سے چلنے والی نیز انسانی و مشینی تعاون پر مبنی ہو جائے گی، انہوں نے امید ظاہر کی کہ معیاری تعلیمی وسائل ہر طالب علم کو "انٹیلی جنٹ ایجوکیشن"کے ذریعے فائدہ پہنچائیں تاکہ ان کی ہمہ جہتی نشوونما کو ممکن بنایا جا سکے۔



