
8 مارچ 2026۔ چین کے مشرقی صوبے جیانگ شی کے شہر فوجو میں سیاح ایک خوبصورت تفریحی علاقے میں چہل قدمی کر رہے ہیں۔ (تصویر/گو ہاؤ)
13مارچ (پیپلز ڈیلی آن لائن)چین جب 15ویں پانچ سالہ منصوبے کی مدت (2026-2030) کا آغاز کر رہا ہے، تو دنیا بڑی توجہ سے دیکھ رہی ہے کہ یہ ملک اپنی سبز تبدیلی کو کس طرح آگے بڑھائے گا اور اس کا عالمی پائیداری پر کیا اثر پڑے گا۔اس سال کے "دو اجلاسوں" کے دوران، بین الاقوامی توجہ چین کے نئے خاکے پر مرکوز رہی جو اقتصادی اور سماجی ترقی کی جامع سبز تبدیلی کو تیز کرنے کے لیے ہے۔ توجہ کا یہ نیا مرکز ، انسانیت اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی کے حصول کے لیے چین کا عزم اجاگر کرتا ہے ۔
چین کی ماحولیاتی ترقی کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتاہے کہ 1.4 ارب سے زائد آبادی والے ملک کے پاس اہم کامیابیوں کاریکارڈ ہے۔ 2025 میں، چین کے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 10,000 یوان (تقریباً 1,450 ڈالر) کے جی ڈی پی کے لحاظ سے 5 فیصد کی کمی ہوئی۔ شہروں میں اچھے یا بہترین ہوا کے معیار کے دنوں کا تناسب 89.3 فیصد تک پہنچ گیا، جو کہ اب تک کا سب سے بہتر ریکارڈ ہے۔ سبز بجلی ملک کی کل توانائی کی کھپت کا تقریباً 40 فیصد ہے اور چین نے قابل تجدید توانائی کا دنیا کا سب سے بڑا اور تیزی سے ترقی کرنے والا نظام قائم کیا ہے۔
2012 سے، چین نے 1.1 ارب مو (733,333 مربع کلومیٹر) سے زیادہ پر شجرکاری کی ہے، جو دنیا کے نئے سبز علاقوں کا تقریباً 25 فیصد ہے ان اعدادو شمار کے باعث چین، سبزے میں سب سے زیادہ اور سب سے تیزی سے اضافہ کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر چند بڑے ممالک میں رجعتی ماحولیاتی پالیسیز کے بارے میں تشویش کے دوران، چین کے اقدامات عالمی سبز منتقلی کے لیے بڑھتی ہوئی رفتار اور امید فراہم کرتے ہیں۔ یہ اہم "سبز کامیابیاں" حکمت عملی کی بصیرت اور مستقل عزم سے پیدا ہوئی ہیں۔
تیرہویں پانچ سالہ منصوبے (2016-2020) نے جدید، ہم آہنگ، سبز، کھلے، اور مشترکہ ترقی کے بنیادی اصولوں کا تعین کیا۔ اس کے بعد چودہویں پانچ سالہ منصوبے (2021-2025) نے کاربن پیک اور کاربن نیوٹریلٹی کے اہداف کے حصول کے مخصوص تقاضے پیش کیے گئے۔
پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کی تشکیل کے لیے سفارشات میں "خوبصورت چین" اقدام کو آگے بڑھانے میں نئی بڑی پیش رفت ،ایک اہم مقصد کے طور پر شامل ہے اور اس میں "ہر سطح پر سبز منتقلی کو تیز کرنا اور ایک خوبصورت چین بنانا" کے لیے ایک مخصوص سیکشن بھی شامل ہے۔پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے مسودہے میں کاربن اخراج کو کم کرنے، آلودگی پر قابو پانےاور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق پانچ اشاریے مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ کاربن پیک اور کاربن غیر جانبداری، ماحولیاتی معیار کی بہتری، اور ماحولیاتی تحفظ و بحالی پر مرکوز 18 بڑے منصوبے بھی شامل ہیں۔
چونکہ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کا آغاز ہو رہا ہے ، چین اپنی جامع سبز منتقلی کو تیز کر رہا ہے، جس سے اعلی معیار کی ترقی کی سبز بنیاد مزید نمایاں ہو رہی ہے۔

5 مارچ 2026 ۔صوبہ گانسو کے نیشنل نیچر ریزروز جانگ یئے سے سرخ بطخوں کے جھنڈ شمال کی طرف اڑان بھر رہے ہیں۔ (تصویر/یانگ یونگ وئی)
ماحولیاتی تحفظ اور ترقی کے درمیان توازن قائم کرنا ایک عالمی چیلنج ہے۔ پائیدار تبدیلی کے لیے لوگوں کے لیے حقیقی عملی فوائد فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ چین نے "صاف پانی اور سرسبز پہاڑ قیمتی اثاثے ہیں،" کے اصول کی رہنمائی میں یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ ایک صحت مند ماحولیاتی ماحول لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے سب سے زیادہ جامع عوامی فائدہ ہے،سبز ترقی کے لیے طویل مدتی، جامع اور مکمل نقطہ نظر اپنایا ہے۔
چین کے مشرقی صوبے جہ جیانگ کے گاؤں یوٹسن میں، کانیں بند کرنے سے ایک کامیاب ماحولیاتی سیاحت کی صنعت نے جنم لیا ہے۔ چھونگ چھنگ کے گاوں چھانگ جیانگ میں، ماہی گیری پر پابندیوں کے بعد زراعت کی ترقی کی راہ ہموار ہوئی ہے ۔چین کے صوبے جیانگ سو کے شہر جیانگ یِن میں صنعتی تبدیلی آلودگی سے بھرپور ترقی سے سبز ترقی کی طرف منتقل ہو چکی ہے۔ جنوب مغربی چین کے صوبے گوئے جو میں، ایک وقت میں صحرا زدگی پر قابو پانے کے لیے لگائی گئی ضمنی پیداوار ، کانٹے دار چینی ناشپاتی کو ایک "سنہری پھل" میں تبدیل کر دیا گیا ہے جو آمدنی اور خوشحالی میں اضافے کا باعث بن گیاہے۔
یہ سبز تبدیلی کے حوالے سے سوچ سمجھ کر کیے گئے انتخاب لوگوں کو نیلے آسمان کے نیچے صاف پانیوں ککے ساتھ ، ترقی کے فوائد میں شرکت کا موقع دیتے ہیں۔
لوگوں کو فائدہ، خوشحالی اور سہولت فراہم کرنے والی ماحول دوست پالیسیز کو اپنانے سے ، چین نے سبز ترقی کے ثمرات کو لوگوں کی فلاح و بہبود میں عملی بہتری میں تبدیل کر دیا ہے، جس سے دوسرے ممالک کو شاندار تحریک فراہم ہوتی ہے۔یورپی جریدے ماڈرن ڈپلومیسی کے ایک مضمون میں نشاندہی کی گئی ہے کہ چین کا اعلیٰ معیار کا ترقیاتی ماڈل گلوبل ساوتھ ممالک کے لیے ماحولیاتی پائیداری اور اقتصادی ترقی کو یکجا کرنے کا ایک مثالی راستہ فراہم کرتا ہے۔
چین کا ماحولیاتی ریکارڈ بھی عالمی سبز ترقی میں اس کی قیادت اور ذمہ داری کی عکاسی کرتا ہے۔
چین ،دنیا بھر کے ممالک، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کو اعلیٰ معیار کی، موثر سبز اور کم کاربن مصنوعات فراہم کرتا رہتا ہے۔ اس کی ہوا کی طاقت کا سامان، فوٹو وولٹک مصنوعات اور نئی توانائی کی گاڑیاں 200 سے زائد ممالک اور علاقوں میں برآمد کی جاتی ہیں۔چین، دنیا کے ونڈ پاور سامان کا تقریباً 70 فیصد اور فوٹو وولٹائک اجزاء کا 80 فیصد فراہم کرتا ہے، جس سے ہوا اور شمسی توانائی کی پیداوار کی عالمی قیمت میں بالترتیب 60 فیصد اور 80 فیصد سے زیادہ کی کمی آئی ہے۔
اس عالمی سبز تبدیلی کے اہم لمحے پر، چین نے متعلقہ شعبوں میں عالمی گورننس میں فعال طور پر شرکت کی ہے، 2030 کی طے شدہ قومی شراکتوں (NDCs) کے نفاذ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، نئے NDCs کا اعلان کیا ہے، اور 100 سے زیادہ ممالک اور علاقوں کے ساتھ سبز توانائی کے تعاون کے منصوبے شروع کیے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، انگر اینڈرسن کا کہنا ہے کہ چین کی قابل تجدید توانائی کی ترقی نے عالمی موسمیاتی کارروائی میں بھرپور تعاون فراہم کیا ہےنیز چین کی طویل مدتی منصوبہ بندی، صنعتی صلاحیت اور پالیسی ہم آہنگی کے ذریعے حاصل کردہ کامیابیاں عالمی ترقی کی راہ کو تبدیل کریں گی۔
چین کی سبز ترقی کا ایک نیا منظر نامہ سامنے آ رہا ہے۔ جیسے ہی 15 واں پانچ سالہ منصوبہ شروع ہوتا ہے، چین ثابت قدمی کے ساتھ سبز ترقی کی راہ پر گامزن رہے گا جو ماحولیاتی تحفظ اور حفاظت کو ترجیح دیتا ہے، تمام ممالک کے ساتھ مل کر اس چیز کی حفاظت کرے گا جو ہمارے کرہ ارض کو زندگی دیتی ہے، عالمی موسمیاتی چیلنجز کا مشترکہ طور پر سامنا کرے گا، سبز زمین کی حفاظت کرے گا، اور ایک صاف اور خوبصورت دنیا کو محفوظ بنائے گا۔



