• صفحہ اول>>کاروبار

    چھوٹا پھل، بڑی رسائی: چین کے مالٹے اور سنگترے عالمی منڈیوں تک پہنچ گئے

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-04-02

    چین کے جنوب مغربی صوبے سیچوان کے شہر میشان میں ایک فروٹ کمپنی کے کارکن بیرون ملک جانے والے مینڈارین مالٹوں کی چھانٹی اور پیکنگ کر رہے ہیں (تصویر: پان شوائی)

    چین کے جنوب مغربی صوبے سیچوان کے شہر میشان میں ایک فروٹ کمپنی کے کارکن بیرون ملک جانے والے مینڈارین مالٹوں کی چھانٹی اور پیکنگ کر رہے ہیں (تصویر: پان شوائی)

    2 اپریل (پیپلز ڈیلی آن لائن)۔موسم بہار کے میٹھے ٹینجرینز (چھوٹے سائز کے انتہائی میٹھے کینو) سے لے کر گرمیوں میں تازہ ٹھنڈی نارنجیوں تک اور سال بھر فروخت ہونے والے تازہ یخ لیموں پانی کے ایک ارب سے زائد گلاسوں تک، "سٹرس پھل" چینی مارکیٹ میں ایک مستقل جگہ بنا چکے ہیں۔ اب یہ قدیم پھل چین کے مالٹوں اور سنگتروں کی پوری صنعت میں ایک جامع تبدیلی کے ذریعے نئی شکل اختیار کر رہے ہیں ۔

    چین کے نیشنل سٹرس انڈسٹری ٹیکنالوجی سسٹم کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں چین کے سٹرس فروٹس کی پیداوار ستر ملین ٹن سے تجاوز کر گئی اور گزشتہ پانچ سالوں میں فی یونٹ پیداوار میں 21 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ عالمی سطح پر، دنیا میں ہر تین میں سے ایک سٹرس پھل چین میں اگایا جاتا ہے۔

    چین میں سٹرس پھلوں کا خاندان بہت وسیع ہے، اس میں مینڈارینز اور نارنجیوں سے لے کر چکوترے اور لیموں تک سب شامل ہیں۔یہاں بڑے پیمانے پر نوے سے زیادہ اقسام اگائی جاتی ہیں۔گزشتہ دو دہائیوں کے دوران، دنیا میں سٹرس پھلوں کی 60 فی صد سے زائد نئی اقسام ،چینی محققین نے تیار کی ہیں۔ فوری تیار ہوجانے والی اقسام سے لے کر ، اوسط مدت اور دیر سے تیار ہونے والی اقسام کو بہتر بنا کر، انہوں نے اس موسمی پھل کو سال بھر فراہمی کے قابل کر دیا ہے۔

    یہ مستحکم فراہمی نئے صارفین، بالخصوص نوجوان صارفین میں کھپت کا ایک نیا رجحان پیدا کر رہی ہے۔ گرمیوں میں، ٹھنڈا یخ لیموں پانی پورے چین میں ایک اہم مشروب بن چکا ہے اور اس کے لیے درکار زیادہ تر پھل جنوب مغربی چین کے صوبے سیچوان اور چھونگ چنگ سے حاصل کیا جاتا ہے۔

    چھونگ چنگ میں مشروبات کی کمپنی می شوئے آئس کریم اور ٹی (Mixue icecream and tea) کے زیر انتظام ایک سمارٹ فیکٹری میں تازہ کٹے ہوئے لیموں جانچ کے ایک سخت عمل سے گزرتے ہیں۔دھلائی کے متعدد مراحل کے بعد، پھل ،انفراریڈ سینسرز اور ہائی ڈیفینیشن کیمروں سے لیس ایک تیز رفتار چھانٹی لائن پر آگے بڑھتا ہے ۔ اعلیٰ درجے کے پھلوں کو پھر کنٹرول شدہ حالات میں کم از کم تیس دن تک ذخیرہ کیا جاتا ہے تاکہ رس کی پیداوار میں قدرتی طور پر اضافہ ہو سکے۔

    صنعتی کاملیت کی یہ سطح ،کاشتکاروں کی زندگی کو ایک نیا روپ دے رہی ہے۔

    جنوبی چین کے صوبے گوانگ ڈونگ کے شہر مئےجو میں ایک باغ سے تازہ چنی گئی نارنجیوں کی ڈرون کے ذریعے منتقلی۔ (تصویر: فینگ شی چوان)

    جنوبی چین کے صوبے گوانگ ڈونگ کے شہر مئےجو میں ایک باغ سے تازہ چنی گئی نارنجیوں کی ڈرون کے ذریعے منتقلی۔ (تصویر: فینگ شی چوان)

    چھونگ چھنگ کی ڈسٹرکٹ تونگ نان کے کسان لی جی ، 100 ہیکٹر پر مشتمل لیموں کے باغ کا انتظام سنبھالتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں اکثر زیادہ ترسیل اور قیمتوں کے گرنے کا سامنا کرنا پڑتا تھا، لیکن اب خریداری کی ضمانت دی جاتی ہے اور قیمت کا تعین معیار کی بنیاد پر کیا جاتا ہے, پھل جتنا بہتر ہو، منافع اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔پھلوں کے جدید باغات آبپاشی اور کھاد دینے کے مربوط نظام سے لیس ہیں جب کہ کیڑوں پر قابو پانے اور نگرانی کے لیے ڈرون استعمال کیے جاتے ہیں۔ سردیوں میں، وہ فصلوں کو کہرےسے بچانے میں بھی مدد دیتے ہیں۔

    2017 سے2025 کے درمیان، چین نے نو جدید زرعی صنعتی پارک قائم کیے جن میں سٹرس پھل کا ایک اہم حصہ ہے۔ جنوبی چین کے گوانگ شی جوانگ خود اختیار علاقے کے شہر نان ننگ کی ڈسٹرکٹ وُومنگ میں، سٹرس پھل کی قسم 'ووگان' مقامی معاشی ترقی کا ایک اہم ستون بن گئی ہے۔ اے آئی سے چلنے والے چھانٹی کے نظام درجہ بندی میں تقریباً 98 فیصد درستگی حاصل کرتے ہیں، جبکہ انٹرنیٹ آف تھنگز اور ڈیجیٹل ٹوئن سسٹم جیسی تکنیک کارکردگی کو بہتر بناتی ہے اور نقصانات کو کم کرتی ہے۔ 2024 میں، وومنگ میں سٹرس فروٹس کی مکمل چین نے تقریباً 10 بلین یوآن (1.45 بلین امریکی ڈالر) مالیت کی پیداوار حاصل، جس سے دو لاکھ چالیس ہزار سے زائد افراد مستفید ہوئے۔کولڈ چین لاجسٹکس اور سرحد پار تجارت میں پیشرفت چینی مالٹوں ، سنگتروں اور اسی قبیل کے دیگر پھلوں کو عالمی منڈیوں تک مزید رسائی دے رہی ہے۔

    ماضی میں، چین میں فصل کے بعد کے نقصانات 30 فیصد سے بھی زائد ہو جاتے تھے۔ آج، سبز تحفظ اور جراثیم کش تکنیک میں پیشرفت کے ذریعے، کچھ کمپنیز نے نقصانات کو 5 فیصد سے بھی کم کر دیا ہے، جس سے پھلوں کے قابلِ استعمال رہنے کی مدت میں نمایاں اضافہ ہوا ہےاور اب چین سے یہ تازہ پھل، چالیس سے زائد ممالک اور خطوں کو برآمد کیے جاتے ہیں۔ساتھ ہی، تیزی سے بڑھتے ہوئے کولڈ چین سسٹم نئے خردہ ماڈلز کی معاونت کر رہے ہیں۔

    سیچوان کے کاونٹی چھنگ شین میں، نامیاتی طور پر اگائے جانے والے مینڈارینز کی چنائی کے بعد انہیں کولڈ چین ڈیلیوری نیٹ ورکس کے ذریعے فوری طور پر منتقلی کیا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں، چنے گئے پھل چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر شہر میں صارفین تک پہنچ جاتے ہیں۔

    وسطی چین کے صوبے حو بے کے شہر یی چھانگ میں ایک کمپنی کی سٹرس سیرپ فیکٹری  کی خودکار پروسیسنگ لائن میں پیداواری عمل جاری ہے۔ (تصویر: لیئے یونگ)

    وسطی چین کے صوبے حو بے کے شہر یی چھانگ میں ایک کمپنی کی سٹرس سیرپ فیکٹری کی خودکار پروسیسنگ لائن میں پیداواری عمل جاری ہے۔ (تصویر: لیئے یونگ)

    بہتر معیار اور قابل اعتماد کولڈ چین لاجسٹکس کی بدولت، چینی سٹرس فروٹ ایک بڑی برآمدی قوت بنتا جا رہا ہے۔

    مشرقی چین کے صوبے جیانگ شی کے شہر گانجو کی مشہور نارنجی، جسے اس کے مخصوص نشان اور ساخت کی وجہ سے " نیول اورنج" کہا جاتا ہے ایک برینڈ بن چکی ہے جس کی مالیاتی قدر تقریباً ستر بلین یوآن ہے۔یہ مسلسل گیارہ سالوں سے چین کے اعلی پھلوں کی برینڈ کے درجے پر ہے اور چوبیس ممالک اور خطوں کی منڈیوں تک پہنچ چکی ہے۔چھونگ چھنگ کی ووشان لیان چھینگ نارنجی ، اب جدید کولڈ چین ڈلیوری کے ذریعے سنگاپور کی سپر مارکیٹس میں فروخت ہوتی ہے۔ سیچوان کی کاؤنٹی آن یوے ، سالانہ ایک لاکھ ٹن لیموں برآمد کرتی ہے، جو حجم کے لحاظ سے صوبے کی پھلوں کی سب سے بڑی درآمد ہے۔

    چائے فروخت کرنے والی برینڈز کی بیرون ملک توسیع سے اعلیٰ معیار کے چینی لیموں بھی عالمی سطح پر پہچان حاصل کر رہے ہیں۔

    تکنیکی جدت طرازی اور نئے کاروباری ماڈلز سے چین کے سٹرس پھلوں کی صنعت ویلیو چین میں مسلسل ترقی کر رہی ہے، جس سے چین کے باغات سے مزید اعلیٰ معیار کے پھل دنیا بھر کے صارفین تک پہنچ رہے ہیں۔

    ویڈیوز

    زبان