چین کی وزارت صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق، 2025 میں چین میں قومی ہائی ٹیک زونز کی کل پیداواری مالیت 20.4 ٹریلین یوآن تک جا پہنچی ہے، جو قومی جی ڈی پی کا 14.5 فیصد بنتی ہے۔ 2025 تک، قومی ہائی ٹیک زونز کی صنعتی ایڈڈ ویلیو 10 ٹریلین یوآن سے تجاوز کرگئی، جو ملک کے مجموعی تناسب کا 24.1 فیصد بنتی ہے۔ درآمدی وبرآمدی حجم میں مستحکم ترقی برقرار رہی اور سامان اور خدمات کا کل درآمدی و برآمدی حجم 9.8 ٹریلین یوآن تک پہنچ گیا۔
ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق، 2025 میں، چین میں قومی ہائی ٹیک زونز میں نامزد سائز سے بالا صنعتی اداروں کے کل منافع میں سال بہ سال 10.2 فیصد کا اضافہ ہوا، جو کہ قومی اوسط سے 9.6 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔ قومی ہائی ٹیک زونز میں قائم اداروں نے آر اینڈ ڈی کے لئے تقریباً 1.2 ٹریلین یوآن خرچ کیے، جو کہ ملک کے 13ویں پانچ سالہ منصوبے کی مدت کے اختتام کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد زیادہ ہے۔ ان اداروں کے پاس ایجادات کے پیٹنٹس کی تعداد 2.2 ملین تک پہنچ گئی، جو 13ویں پانچ سالہ منصوبہ کی مدت کے اختتام کے مقابلے میں دوگنی ہے۔



