جاپانی میڈیا کے مطابق جاپان کی حکومت نے 21 تاریخ کو کابینہ کے فیصلے کے ذریعے "دفاعی سازوسامان کی منتقلی کے تین اصول" اور اس سے متعلق رہنما ہدایات میں ترمیم مکمل کر لی ہے، جس کے تحت اصولی طور پر مہلک ہتھیاروں کی بیرونِ ملک برآمد کی اجازت دے دی گئی ہے، جبکہ مخصوص حالات میں تنازعات میں شامل ممالک کو بھی اسلحہ فراہم کرنے کی اجازت ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق جاپان طویل عرصے سے خود کو ایک "امن پسند ملک" کے طور پر پیش کرتا رہا ہے، تاہم اس حالیہ ترمیم کو اس کی سلامتی پالیسی میں ایک بڑا موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
موجودہ صورتحال میں جاپان کے اندر رائے عامہ میں یہ خدشہ پایا جا رہا ہے کہ حکومتی اقدام سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور اسلحہ کی دوڑ کو تقویت مل سکتی ہے۔ متعلقہ پالیسی کے سامنے آنے کے بعد سے ملک کے اندر بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔



