ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق 21 اپریل کی شام ایران نے باضابطہ طور پر 22 اپریل کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ۔ایران دوسرے مرحلے کے مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دیا۔
ایرانی مؤقف کے مطابق امریکہ کسی بھی ٹھوس معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، اس لیے مذاکرات میں شرکت وقت کا ضیاع ہوگی۔
اسی روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کی درخواست پر امریکہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو عارضی طور پر مؤخر کر رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت کے اندر "شدید اختلافات" موجود ہیں، جس کے پیش نظر امریکہ نے جنگ بندی کی مدت میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے، تاہم ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پہلے ایک متفقہ مذاکراتی لائحہ عمل پیش کرے۔
ٹرمپ کے مطابق اس دوران امریکی افواج ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی برقرار رکھیں گی اور مکمل فوجی تیاری کی حالت میں رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران اپنی تجاویز پیش کر کے مذاکرات مکمل نہیں کرتا۔



