• صفحہ اول>>چین پاکستان

    چین کے خلائی مشن کے لیے دو پاکستانی خلا بازوں کا انتخاب

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-04-23

    23 اپریل 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)22 اپریل کو، چائنا مینڈ سپیس ایجنسی کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ چین کی"سپیس مشن ٹریننگ" کے لیے دو پاکستانی شہریوں کو پہلے غیر ملکی خلا باز کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔یہ ملک کی خلائی صنعت کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

    ایجنسی کے مطابق،پاکستان کے محمد ذیشان علی اور خرم داود ، بطور ریزرو خلا باز جلد ہی چین آئیں گے اور تمام متعلقہ تربیت اور جانچ مکمل کرنے کے بعد، ان میں سے ایک ممکنہ طور پر مشن کے عملے میں بطور پے لوڈ سپیشلسٹ شامل ہوگا جو کہ چین کے تھیان گونگ سپیس سٹیشن کا دورہ کرنے والا پہلا غیر ملکی خلا باز ہوگا۔اگر یہ پروگرام کامیاب ہوتا ہے، تو یہ بھی پہلا موقع ہوگا کہ ایک پاکستانی شہری زمین کے مدار تک پہنچے گا۔

    ایجنسی کے بیان میں اس تربیت کو بین الاقوامی خلائی تعاون میں ایک علامتی کامیابی اور اس شعبے میں چین-پاکستان ہمہ موسمی سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو ٹھوس صورت اختیار کرنے کی ایک کامیاب مثال قرار دیا گیا ہے ۔

    بیان میں کہا گیا کہ انسانیت کی بھلائی کے لیے بیرونی خلا کا پُرامن استعمال ،ہمیشہ سے چین کے خلا ئی پروگرامز کا اصل مقصد اور مشن رہا ہے ۔چین کا "مینڈ سپیس پروگرام" اپنے دروازے کھلے رکھے گا اور تھیان گونگ سپیس سٹیشن پر سائنسی تجربات اور تکنیکی جانچ جیسے شعبوں میں تعاون نیز خلا نوردوں کے انتخاب اور تربیت میں فعال طور پر حصہ لینے کے لیے ہمیشہ دنیا کے تمام ممالک کو خوش آمدید کہے گا۔

    فروری 2025 میں، چینی ایجنسی اور پاکستانی سپیس ایجنسی سپارکو نے اسلام آبادمیں ایک معاہدے پر دستخط کیے، جس نے پاکستانی خلا بازوں کے انتخاب اور تربیت کے لیے دو طرفہ تعاون کی راہ ہموار کی۔

    اب تک، کوئی بھی پاکستانی سب سے زیادہ جس بلندی پر پہنچا وہ تقریباً 87.4 کلومیٹر ہے جہاں تک ، 6 اکتوبر 2023 کو پاکستانی پولر مہم جو نمیرہ سلیم ، امریکا کی کمرشل سپیس کمپنی ورجن گیلیکٹک کی جانب سے تربیت حاصل کرنے کے بعد 55 منٹ کی سب اوربٹل پرواز کے دوران پہنچیں ۔

    کارمن لائن، جو سطِح سمندر سے 100 کلومیٹر کی بلندی پر واقع ہے، عالمی سطح پر خلا کی شروعات اور مدار میں پرواز کی حد کے طور پر تسلیم کی جاتی ہے۔

    ایرو سپیس نالج میگزین کے چیف ایڈیٹر وانگ یانان کے مطابق، دو پاکستانی خلا بازوں کو چینی زبان سیکھنے، خلا ئی سائنس کے بنیادی اصولوں کو سمجھنے، سپیس کرافٹ کی ساخت اور افعال، خلائی طبیعیات اور ہنگامی ردِعمل سمیت خلائی پرواز سے متعلق مختلف موضوعات اور مہارتوں کا علم حاصل کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لوگوں کے لیے ان کےاپنے خلا نوردوں کا خلا میں ہونا اور اپنے ہم وطنوں کو خلا میں پرواز کرتے دیکھنا بلا شبہ ایک تاریخی اور فخر سے بھرپور لمحہ ہوگا۔ یہ مزید پاکستانی نوجوانوں کو جدید سائنس اور خلا کی دریافت کی جانب توجہ دینے کی ترغیب بھی دے گا۔

    تھیان گونگ، جو زمین کے مدار میں تعینات ہونے والی سب سے بڑے اور جدید ترین سٹرکچرز میں سے ایک ہے، اس وقت تک واحد خلائی سٹیشن ہے جو کسی ایک ہی ملک کا خود مختار طور پر تعمیر کردہ ہے اور اسی ملک کی جانب سے فعال کیا گیا ہے۔

    ویڈیوز

    زبان