امریکی سینٹرل کمانڈ نے 23 اپریل کو سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ "نِمِٹز" کلاس کا جوہری توانائی سے چلنے والا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش اس وقت اپنے زیرِ نگرانی علاقے میں بحیرۂ ہند میں گشت کر رہا ہے۔
اسی روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ کو جلد ختم کرنے کے خواہاں نہیں۔ انہوں نے امریکی بحریہ کو ہدایت دی کہ اگر آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز کی جانب سے بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کی جائے تو اسے فوری طور پر نشانہ بنا کر تباہ کر دیا جائے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز پر "مکمل کنٹرول" حاصل کر لیا ہے اور یہ گزرگاہ کسی معاہدے یا دیگر حالات کے بعد ہی مکمل طور پر کھولی جائے گی۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے 23 تاریخ کی شام کو کہا کہ اسرائیل ایران کے خلاف فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے اور اس سلسلے میں امریکہ کے فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق ایران نے "جوابی اقدام" اور "جارحانہ دفاعی حکمتِ عملی" کے اصولوں کے تحت امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ممکنہ کارروائیوں کے جواب کے لیے جامع منصوبہ تیار کر لیا ہے۔
ایران کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا کہ دفاعی پیداوار کا عمل مسلسل جاری ہے اور مسلح افواج کی ضروریات کو ہر ممکن صورت میں پورا کیا جا رہا ہے، چاہے وہ جنگی صورتحال ہو، تیاری کا مرحلہ ہو یا جنگ بندی کی حالت۔



