
صوبہ شائنشی کے گاوں ،شوانگ چوان میں نمائش کے لیے پیش کی گئی سایوں کے کھیل میں استعمال ہونے والی کٹھ پتلیاں۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن ۔ سون تھینگ)
24 اپریل 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)7 اپریل ، شمال مغربی چین کے صوبے شائنشی کے گاؤں شوانگ چوان میں ، شیڈو کٹھ پتلی کے فن کا مورث چھین یی ون، مہارت سے ایک کھال پر اپنے کٹائی کے چاقو سے بندر بادشاہ کی تصویر کو تراش رہا تھا۔ 62 سالہ چھین ،اپنے والد کی رہنمائی میں اس فن سے متعارف ہوا تھا ۔

شمال مغربی چین کے صوبے شائنشی کے گاؤں شوانگ چوان میں چھین یی ون شیڈو پتلی بنانے میں مصروف ہیں۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن۔سون تھینگ )
چھین طرز کی حوا ین شیڈو کٹھ پتلی کی اعلیٰ معیار کی نقاشی کا انحصار ،چن چھوان گائے کی کھال پر ہوتا ہے، جو اپنی مضبوطی اور شاندار شفافیت کے باعث قیمتی مانی جاتی ہے۔ یہ فن 20 سے زیادہ مراحل پر مشتمل ہے، جس میں کھال کا انتخاب اور تیاری، خاکہ بنانا، نقاشی کرنا، نمی خشک کرنا، رنگ کرنا اور چپکانا شامل ہیں۔
نقاشی کا یہ کام ،ایک مستحکم ہاتھ اور چاقو کو قابو میں رکھنے کی مہارت کا متقاضی ہے۔ چہرے کے خدو خال اور لباس کے نمونے خاص طور پر اہم ہیں، کیونکہ یہ کٹھ پتلی کے تاثرات اور اس کردار کی روح کو متعین کرتے ہیں۔
چھین طرز کی ہر حوا ین شیڈو کٹھ پتلی ، 11 علیحدہ حصوں پر مشتمل ہوتی ہے، جن میں سر، سینہ، کمر، دو اوپر کے بازو، دو نیچے کی بازو، دو ٹانگیں اور دو ہاتھ شامل ہیں۔ یہ تمام حصے انفرادی طور پر تراشے جاتے ہیں، جس کے بعد انہیں احتیاط سے ایک مکمل شکل میں جوڑ دیا جاتا ہے۔

چھین یی ون کی بنائی ہوئی شیڈو کٹھ پتلی ۔(تصویر: بشکریہ چھین یی ون)
وقت کے ساتھ ساتھ، نوجوانوں کی دلچسپی روایتی دستکاریوں میں کم ہوتے دیکھ کر چھین نے محسوس کیا کہ اگر اس فن کو زندہ رکھنا ہے تو اسے پرانی روایات سے آگے بڑھاتے ہوئے بصری طور پر زیادہ دلکش اور دلچسپ بنانا ہوگا۔لہذا روایتی تیکنیکوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے ، انہوں نے جدت کا انداز اپنانا شروع کیا اور ایسی کٹھ پتلیاں تخلیق کیں جو کلاسیکی دلکشی کو برقرار رکھتے ہوئے جدید جمالیات پر بھی پوری اترتی ہیں۔

شیڈو کٹھ پتلیوں کو رنگنے کے مخصوص رنگ۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن۔سون تھنگ )
اس روایتی ہنر کو زندہ رکھنے اور آگے منتقل کرنے کے لیے چھین، ہر عمر کے شاگردوں کو دل سے خوش آمدید کرتا ہے اور اس فن کو سیکھنے کا شوق رکھنے والوں کو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنی کندہ کاری کی مہارت سکھاتا ہے۔
اس نے ایک ان کٹھ پتلیوں کی کندہ کاری کی وراثت کا ایک مرکز بھی قائم کیا جہاں شاگرد، نہ صرف کندہ کاری کی تکنیکیں سیکھتے ہیں بلکہ حوا ین شیڈو کٹھ پتلی کی تاریخ اور پرفارمنس کی روایات کا بھی مطالعہ کرتے ہیں، جس سے مزید لوگ اس منفرد فن کو دریافت کرتے اسے سمجھتے اور اس کی محبت میں گرفتار ہو رہے ہیں۔

شمال مغربی چین کے صوبے شائنشی کے گاؤں شوانگ چوان میں ، شیڈو کٹھ پتلی کے فن کا مورث چھین یی ون، ایک کھال پر پتلی کا خاکہ تراش رہا ہے۔(پیپلز ڈیلی آن لائن۔سون تھنگ )



