• صفحہ اول>>تبصرہ

    چین کی چار نکاتی  تجویز: مشرق وسطی میں امن و استحکام  کے لیے تعمیری شراکت

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-04-24

    حال ہی میں چینی صدر شی جن پھنگ نے ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران، مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے ایک چار نکاتی تجویز پیش کی۔انہوں نے پرامن بقائے باہمی، قومی خودمختاری، بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کے اصول نیز ترقی اور سلامتی کے لیے ہم آہنگی کے نقطہ نظر کی پاسداری کی ضرورت پر زور دیا۔

    یہ چار نکاتی تجویز ،چین کے امن کو فروغ دینے، تنازعات کے خاتمے اور بات چیت کے ذریعے اختلافات کو حل کرنے کے مستقل موقف کی مکمل عکاسی کرتی ہے نیز مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے کو تنازعات کے سائے سے نکلنے اور دیرپا استحکام حاصل کرنے کے لیے ایک چینی نقطہ نظر پیش کرتی ہے۔بین الاقوامی برادری کو یقین ہے کہ یہ چار نکاتی تجویز، عملی اور منصفانہ ہے ، اس خطے کے لوگوں کے بنیادی مفادات پر مبنی ہے نیز علاقائی اور عالمی امن و استحکام کو مثبت توانائی فراہم کرے گی۔

    مشرق وسطی میں عدم استحکام کا مطلب دنیا میں عدم استحکام ہے۔ یہ خطہ ایک مرتبہ پھر شورش کا شکار ہے اور تنازع کے اثرات واضح ہوتے جا رہے ہیں۔اقوام متحدہ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی رپورٹس نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ تنازع، عالمی اقتصادی سست روی کا باعث بن سکتا ہے، 2026 میں ترقی پر بوجھ ڈال سکتا ہے، علاقائی معیشتوں کے لیے تقریباً 200 ارب ڈالر کے نقصانات کا سبب بن سکتا ہے اور دنیا بھر میں 32 ملین سے زیادہ لوگوں کو غربت کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

    جارحیت کا خاتمہ، جنگ بندی کو مستحکم کرنا اور سیاسی حل کی تلاش، بین الاقوامی برادری کی سب سے اہم ترجیحات اور مشترکہ توقعات ہیں۔

    پرامن بقائے باہمی کے اصول کی پاسداری، مشرق وسطی کے سلامتی کے مسئلے کو حل کرنے اور طویل مدتی استحکام کے حصول کے لیے ایک اصولی بنیاد ہے۔

    مشرق وسطی اور خلیجی ممالک ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں اور ناقابل تقسیم ہمسائے ہیں۔ جوں جوں صورتحال کشیدہ ہورہی ہے اتنا ہی انہیں امن کی قدر کرنی چاہیے۔

    سعودی عرب اور ایران کے درمیان تاریخی مفاہمت سے لے کر، 14 فلسطینی دھڑوں کے مابین بات چیت کی حمایت کرنے نیز بیجنگ اعلامیے پر دستخط کرنے تک اور پاکستان کے ساتھ مل کر خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے پانچ نکاتی اقدام جاری کرنے تک، چین نے ہمیشہ بات چیت کو فروغ دینے، اختلافات کو ختم کرنے اور باہمی اعتماد تشکیل دینے میں تعمیری کردار ادا کیا ہے۔

    چین، تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے اس خطے کے ممالک کی کوششوں کی نیز مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے کے لیے ایک مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار سکیورٹی ڈھانچہ تشکیل دینے کی حمایت کرتا ہے، کیونکہ یہ کوششیں علاقائی ممالک کے مابین پرامن بقائے باہمی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کریں گی۔

    قومی خودمختاری کے اصول کی پاسداری امن و استحکام کو برقرار رکھنے اور خطے کے ممالک کے ترقیاتی حقوق کے تحفظ کے لیے بنیادی شرط ہے۔

    خود مختاری ، تمام ممالک خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کی بنیاد ہےاور اس کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔ مشرق وسطی کے عوام اس خطے کے حقیقی مالک ہیں اور علاقائی امور ، علاقائی ممالک کو خود مختاری کے ساتھ طے کرنے چاہیں، اس معاملے میں بیرونی قوتوں کو اپنی حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے، طاقت کے استعمال کی طرف رجوع نہیں کرنا چاہیے، داخلی امور میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے اور دوسروں کی خود مختاری کو پامال نہیں کرنا چاہیے۔

    مشرق وسطی اور خلیجی ممالک کی خود مختاری ، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے اور مؤثر طریقے سے تمام ممالک کے عملے، سہولیات اور اداروں کی حفاظت کی جانی چاہیے۔ چین اس خطے کے ممالک کی خود مختاری ، سلامتی، علاقائی سالمیت اور قومی وقار کے دفاع اور ان کے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ میں ان کی حمایت کرتا ہے ۔

    بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کے اصول کی پاسداری، مشرق وسطی میں تنازعات کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس خطے کے لیے مستقل امن کے ڈھانچے کی تشکیل کے لیے ایک مضبوط ضمانت فراہم کرتی ہے۔

    اس خطے میں تنازعات کی طویل مدتی شدت کا بنیادی سبب ، کچھ ممالک کی جانب سے بین الاقوامی اصولوں کو نظر انداز کرنا ہے۔ یہ ممالک اکثر شدید دباؤ اور یک طرفہ پابندیوں کا سہارا لیتے ہیں، اپنے مفادات کو مشترکہ عالمی مفادات پر فوقیت دیتے ہیں نیز کثیرجہتی نظام اور بین الاقوامی قانون کی بنیاد کو کمزور کرتے ہیں۔

    بین الاقوامی قانون کی عمل داری کو برقرار رکھنا چاہیے اور منتخب اطلاق کو مسترد کرنا چاہیے تاکہ دنیا واپس جنگل کے قانون کی طرف نہ جائے۔ یہ ضروری ہے کہ اقوام متحدہ کی مرکزیت کے حامل اور اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں کی بنیاد پر ،بین الاقوامی قانون پر مبنی بین الاقوامی نظام اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کو مستحکم طور پر قائم رکھا جائے ۔

    ترقی اور سلامتی کے لیے ایک مربوط حکمت عملی ، مشرق وسطیٰ میں امن، استحکام اور خوشحالی کی جانب طویل مدتی راستہ ہے۔

    سلامتی ، ترقی کو ممکن بناتی ہے اور ترقی سلامتی کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ صاف توانائی کے تعاون کو فروغ دینے سے لے کر سبز منتقلی کی حمایت کرنے اور صحراؤں میں پھل اگانے میں مدد دینے والی زرعی ٹیکنالوجیز کا تبادلہ کرنے تک ، چین نے اس خطے کے ممالک کے ساتھ اپنے ترقیاتی تجربات کا فعال طور پر اشتراک کیا ہے۔

    ایران میں جنگ کے آغاز کے بعد، چین نے فوری طور پر ایران، اردن، لبنان اور عراق کو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر ہنگامی امداد فراہم کی اور جنگ سے متاثرہ لوگوں کو فوری طور پر ضروری سامان فراہم کیا گیا ۔

    تمام فریقین کو مل کر مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک کی ترقی کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ چین، علاقائی ترقی اور سلامتی کی بنیاد کو مضبوط بنانے کے لیے ان ممالک کے ساتھ چینی جدیدیت کے ذریعے فراہم کردہ مواقع بانٹنے کے لیے تیار ہے ۔

    چارنکاتی تجویز مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے رہنما روشنی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس وقت، یہ علاقہ تنازع اور امن کے درمیان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایسے لمحے میں، تمام فریقین کو اپنی بھرپور نیک نیتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور سیاسی حل کے لیے کام کرنا چاہیے۔

    چین تاریخ کی درست جانب اور انسانی ترقی کے حق میں، امن اور بات چیت کے حق میں کھڑا رہے گا۔ چین، مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے ہم خیال ممالک کے ساتھ مل کر، چینی طاقت کا حصہ ڈالتے ہوئے اور ایک بڑی طاقت کی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئےمستقل کوششیں جاری رکھے گا۔

    ویڈیوز

    زبان