24 اپریل کو چین کا گیارہواں خلائی دن منایا گیا۔ اس سال کی دوسری ششماہی میں، چین کا چھانگ عہ 7 خلائی جہاز چاند کے قطب جنوبی کی جانب روانہ ہو گا، اور توقع ہے کہ چین چاند پر برفیلا پانی دریافت کر پانے والا پہلا ملک بن سکتا ہے۔ اس وقت چین کے انسان بردار قمری تحقیقی پروگرام میں چاند پر اترنے کے مرحلے کی تیاریاں مستحکم انداز میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ سال 2028 کے لگ بھگ چین کا تھیان ون تھری خلائی جہاز تاریخ میں سب سے پیچیدہ مشنز میں سے ایک انجام دے گا، جس کے تحت مریخ پر زندگی کے آثار ڈھونڈنے کے لئے اس کی سطح سے نمونے حاصل کر کے زمین پر واپس لائے جائیں گے۔
بیجنگ وقت کے مطابق 24 تاریخ کی سہ پہر 2 بجکر 35 منٹ پر چین نے شی چھانگ سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے لانگ مارچ ٹو ڈی کیریئر راکٹ کے ذریعے ایک سیٹلائٹ انٹرنیٹ ٹیکنالوجی ٹیسٹ سیٹلائٹ کو لانچ کیا، جوکامیابی سے اپنے مقررہ مدار میں پہنچ چکا ہے۔یہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ ٹیکنالوجی ٹیسٹ سیٹلائٹ بنیادی طور پر موبائل فونز کے لیے سیٹلائٹ سے براہ راست براڈ بینڈ کنکشن جیسی ٹیکنالوجیز کے تجربات اور تصدیق کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ یہ مشن لانگ مارچ سیریز کے کیریئر راکٹس کی 639 ویں پرواز ہے۔



