مقامی وقت کے مطابق 27 اپریل کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے دورے پر آئے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے سینٹ پیٹرزبرگ میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران پیوٹن نے کہا کہ انہیں گزشتہ ہفتے ایران کے سپریم لیڈر کا خط موصول ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس مشرق وسطیٰ میں جلد از جلد امن کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والی یہ ملاقات نتیجہ خیز رہی۔ انہوں نے بتایا کہ فریقین نے دو طرفہ تعلقات، علاقائی مسائل اور امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے فوجی آپریشنزسمیت تمام امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ۔ روسی صدر کے پریس سیکرٹری دمتری پیسکوف نے 27 تاریخ کو کہا کہ روس ایران کے تنازعے میں شامل تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ثالثی کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ امن کے حصول اور اس کی ضمانت کو یقینی بنایا جائے اور جنگ کو دوبارہ شروع ہونے سے روکا جائے۔ انھوں نے زور دیا کہ کسی بھی صورت میں فائر بندی کا برقرار رہنا اور لڑائی کے دوبارہ آغاز سے گریز ضروری ہے، کیونکہ تنازع کو دوبارہ شروع کرنا ایران، آبنائے ہرمز کے کنارے موجود ممالک اور عالمی معیشت کے مفاد میں نہیں ہے۔
اسی دن وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری لیویٹ نے ایک پریس کانفرنس میں تصدیق کی کہ صدر ٹرمپ اور ان کی قومی سلامتی ٹیم نے اس دن ایران کی جانب سے پیش کردہ نئی مذاکراتی تجویز پرغور کیا ہے۔ امریکی ذرائع کے مطابق، امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران نے خلیجی خطے میں امریکہ کے فوجی اثاثوں اور اڈوں کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔



