ایرانی ذرائع نے 27 اپریل کو بتایا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو تین مرحلوں پر مشتمل مذاکراتی منصوبے سے آگاہ کیا ہے۔ پہلا مرحلہ جنگ کے مکمل خاتمے اور ایران اور لبنان کے خلاف دوبارہ جنگ نہ چھیڑے جانے کی ضمانت حاصل کرنے پر مرکوز ہے۔ اگر پہلے مرحلے میں کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو فریقین دوسرے مرحلے کی جانب بڑھیں گے، جو خاص طور پر آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ہے۔ تیسرا مرحلہ جوہری معاملے پر بات چیت سے متعلق ہے، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ پہلے دو مراحل میں اتفاقِ رائے ہونے تک وہ جوہری معاملات پر کسی قسم کے مذاکرات میں حصہ نہیں لے گا۔
ادھر 26 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ "جلد ختم ہو جائے گی" اور امریکہ "جیت جائے گا۔" ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت کرنا چاہتا ہے تو وہ امریکہ سے رابطہ کر سکتا ہے۔ جوہری معاملے کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ مذاکرات میں ایرانی جوہری مواد کے معاملے کو اہم نکات میں شامل کرے گا۔ انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ ایران "ایک دانشمندانہ انتخاب کرے گا۔"



