• صفحہ اول>>سائنس و ٹیکنالوجی

    زمین سے مدار تک: چین کی نظریں "سپیس کمپیوٹنگ" پر مرکوز

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-04-28

    14 مئی 2025 ۔ چین کے جیوچوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے کمپیوٹنگ سیٹلائٹ کاسٹیلیشن خلا میں لے جانے کے لیے لانگ مارچ-2ڈی کیریئر راکٹ کی روانگی کا منظر ۔ (شنہوا- وانگ جیانگ بو)

    14 مئی 2025 ۔ چین کے جیوچوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے کمپیوٹنگ سیٹلائٹ کاسٹیلیشن خلا میں لے جانے کے لیے لانگ مارچ-2ڈی کیریئر راکٹ کی روانگی کا منظر ۔ (شنہوا- وانگ جیانگ بو)

    28 اپریل 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)ایڈا سپیس ٹیکنالوجی کمپنی کے ایگزیکٹو نائب صدر جاو حونگ جیے نے، زمین کے ہر کونے میں انٹیلی جنٹ سروسز فراہم کرنے کا ایک جامع تصور پیش کیا۔ صوبہ سچوان کے دارالحکومت چھنگ دو میں قائم اس کمرشل ایرو سپیس انٹرپرائز کے "سٹار کمپیوٹ" انیشئیٹو کی رفتار کو تیز کرنے کے حوالے سے 2026 ایک اہم سال ہوگا ۔ کمپنی کا بلند اہداف کا حامل "سٹار کمپیوٹ" منصوبہ ، 2,800 کمپیوٹنگ سیٹلائٹس پر مشتمل اے آئی سپیس انفراسٹرکچر کی تعمیر پر مشتمل ہے۔

    جاو حونگ جیے نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ "سٹار کمپیوٹ" نیٹ ورک میں 2,400 انفیرنس سیٹلائٹس اور 400 ٹریننگ سیٹلائٹس شامل ہوں گے ۔ اس کا مقصد تربیت اور انفیرنس کمپیوٹنگ کے لیے ایک عالمی نیٹ ورک قائم کرنا ہے۔سیٹلائٹس کا پہلا بیچ ،مئی 2025 میں لانچ کیا گیا تھا جب کہ 2026 میں تعیناتی کے لیے دوسرے اور تیسرے بیچ, تیاری کے مرحلے میں ہیں۔مزید تفصیلات کے مطابق اس اقدام کا ہدف، 1,000 سیٹلائٹس کا ایک نیٹ ورک بنانا اور 2030 تک کمرشل آپریشنز شروع کرناہے، جس میں 95 فی صد سے زیادہ توجہ انفیرنس کمپیوٹنگ پر ہوگی اور 2035 تک کل 2,800 سیٹلائٹس مکمل کیے جائیں گے ۔ پچھلے سال، کمپنی کی تکنیکی پیش رفت قابلِ ذکر رہی , شنگھائی جیاو تھونگ یونیورسٹی کے تعاون سے، ADAspace نے دنیا میں پہلی بار خلا پر مبنی کمپیوٹنگ کے ذریعے زمینی روبوٹ کو کنٹرول کرنے کا تجربہ کیا ہے۔ جاو حونگ کے مطابق،یہ توثیق ظاہر کرتی ہے کہ مستقبل میں، جب زمینی نیٹ ورکس دستیاب نہیں ہوں گے تو سیٹلائٹ پر مبنی کمپیوٹنگ کا استعمال کرتے ہوئے انٹیلیجنٹ ایجنٹس جیسے کہ ہیومینائیڈ روبوٹ، روبوٹک کتوں، خود مختار گاڑیوں، اور ڈرونز کو کسی بھی "بلائنڈ سپاٹ" کے بغیر چلایا جا سکے گا۔

    پچھلے سال نومبر میں، ایک ٹیم نے 'سٹار کمپیوٹ' سیٹلائٹس کے پہلے کلسٹر پر علی بابا کے Qwen3 لارج لینگوئیج ماڈل کو متعارف کرایا، جو کہ دنیا میں کسی عمومی مقصد کے ماڈل کا خلا میں پہلا نفاذ ہے، یہ عمل دو منٹ سے کم وقت میں مکمل ہوا۔رواں سال 26 مارچ کو، اسی کمپنی نے وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کے ترقیاتی مرکز کے تعاون سے Prometheus کا آغاز کیا، جو کہ کاروبار کے لیے دنیا کا پہلا سپیس بیسڈ کمپیوٹنگ پاور کلاؤڈ سروس پلیٹ فارم ہے، جو کہ سپیس کمپیوٹنگ کے شعبے میں تکنیکی ترقی سے مصنوعات کی ترقی کی طرف ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

    گزشتہ ہفتے ، چین کے سپیس ڈے 2026 فورم کےموقع پر ،چائنا ٹیلی کام کلاؤڈ ٹیکنالوجی کمپنی کے محقق یان جی یونگ کی ایک رپورٹ پیش کی گئی، جس نے زمین پر موجود کمپیوٹنگ پاور کے گہرے مسائل کی نشاندہی کی۔رپورٹ کے مطابق ، عالمی ڈیٹا سینٹرز بجلی کی عالمی پیداوار کا 1.5 فیصد استعمال کرتے ہیں، جس میں سے 40 فیصد ٹھنڈا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جس کی وجہ سے توانائی کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، دنیا کی 70 فیصد زمین اور 95 فیصد سمندر، نیٹ ورک کے بلائنڈ زونز ہیں۔ ٹرانس اوشیئینک فائبر آپٹکس کو حقیقی وقت کی انٹر ایکٹو ایپلیکیشنز کی معاونت میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور زمینی ڈیٹا سینٹرز ،قدرتی آفات کے سامنے غیر محفوظ ہیں۔

    اس کے برعکس، خلا میں موجود کمپیوٹنگ پاور کے کئی فوائد ہیں: خلا میں شمسی توانائی پیدا کرنے کی کارکردگی زمین پر موجود فوٹو وولٹک سے کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے، جو کافی حد تک دن رات کے چکر اور موسم سے متاثر نہیں ہوتی۔ یان جی یونگ کے مطابق، مطلق صفر کے قریب خلا کا گہرا سرد ماحول ، کولنگ انرجی کی کھپت کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے ۔

    خلائی کمپیوٹنگ پاور کی طلب بہت زیادہ ہے، لیکن سخت حالات جیسے کہ ، ویکیوم، درجہ حرارت میں اتار چڑھاو، مائیکرو گریویٹی اور ہائی ریڈی ایشنز کی وجہ سے ہارڈ ویئر کے بنیادی ڈھانچے کے لیے بڑے چیلنجز موجود ہیں۔ یہ عوامل ہارڈ ویئر کے مواد کے انتخاب، میکانیکی ڈیزائن، حرارت کے اخراج اور برقی کارکردگی کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ مزید برآں، لانچ کے بعد سیٹلائٹ کی دیکھ بھال بہت مہنگی یا عملی طور پر ناممکن ہو سکتی ہے۔ ہانگ جو میں جہ جیانگ لیب جیسا معروف تحقیقی ادارہ اس میدان میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ اس لیب میں سپیس بیس کمپیوٹنگ سسٹم ریسرچ سینٹر کے سربراہ لی چھاو نے،نشاندہی کی کہ روایتی سیٹلائٹس کے لیے ڈیٹا ڈاؤن لنک انتہائی محدود ہیں ، جس کے نتیجے میں خلا میں پیدا ہونے والا تقریباً 90 فی صد ڈیٹا ضائع یا ان پروسیسڈ رہ جاتا ہے۔

    اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے، جہ جیانگ لیب نے "تھری باڈی کمپیوٹنگ کانسٹیلیشن" منصوبہ شروع کیا، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کو خلا میں بھیج کر مدار میں ڈیٹا پروسیسنگ حاصل کرنا ہے۔ 14 مئی 2025 کو، "تھری باڈی کمپیوٹنگ کانسٹیلیشن" کے پہلے بیچ کے 12 کمپیوٹنگ سیٹلائٹس کامیابی کے ساتھ مدار میں داخل ہوئے۔ منصوبے کے مطابق، یہ کانسٹیلیشن 2027 تک 100 سیٹلائٹس تک پہنچ جائے گی۔ ٹیم نے شراکت داروں کے ساتھ مل کر مدار میں 10 اے آئی ماڈلز کی تعیناتی اور توثیق کی ہے۔

    چائنا اکیڈمی آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی( CAICT) کی محقق شئے لینا نے بتایا کہ حال ہی میں CAICT نے خلا میں کمپیوٹنگ پاور کی پیشہ ورانہ کمیٹی تشکیل دینے کی قیادت کی۔ کمیٹی ،خلا میں اے آئی چپس، سیٹلائٹس کے مابین لیزر کمیونیکیشن، موثر حرارتی کنٹرول اور خلا کی فوٹو وولٹائکس جیسے اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مشترکہ تکنیکی تحقیق کرتی ہے اور تکنیکی حل کی تبدیلی کو "تکنیکی طور پر قابل عمل" سے "تجارتی طور پر قابل عمل" کی طرف فروغ دیتی ہے۔

    CAICT کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق، 2030 تک چین کی سپیس کمپیوٹنگ پاور کی صنعت کا حجم 250 بلین یوان (تقریباً 36.6 بلین امریکی ڈالر) سےمتجاوز ہونے کی توقع ہے۔اسی دوران، سپیس کمپیوٹنگ کے لیے ایک ریاستی سطح کا ڈیزائن بھی آگے بڑھ رہا ہے۔

    چائنا نیشنل سپیس ایڈمنسٹریشن کے کمرشل سپیس ڈپارٹمنٹ کے نائب ڈائریکٹر یو گوبن نے بتایا ہے کہ چین نے سپیس بیسڈ انٹیلی جینٹ کمپیوٹنگ کانسٹیلیشن کے لیے ایک جامع فزیبیلٹی سٹڈی اور تجرباتی منصوبے کے جائزے کا آغاز کیا ہے ۔ وزارتِ صنعت وانفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق، چین اپنے سپیس کمپیوٹنگ صنعتی ماحولیاتی نظام کی ترقی کو تیز کر رہا ہے۔چین کی سپیس منسٹری ، کمپیوٹنگ پر تحقیق کی حمایت کرے گی، ہارڈ ویئر، سافٹ ویئر، نیٹ ورکنگ اور سکیورٹی کا احاطہ کرنے والے معیاری نظام کو بتدریج قائم کرے گی اور خلا میں موجود تابکاری سے محفوظ چپس اور سیٹلائٹ کے مابین، لیزر مواصلات جیسی ٹیکنالوجیز اور مصنوعات کی تحقیق و ترقی کو فروغ دے گی۔

    جاو حونگ جیے کا کہنا ہے کہ مستقبل میں، خلا پر مبنی کمپیوٹنگ پاور ،پانی اور بجلی کی طرح ایک عام "پبلک سروس" بن جائے گی ۔ چاہے یہ خود مختار گاڑیوں کے لیے حقیقی وقت میں فیصلہ سازی ہو، ڈرون کے گروہ کا ہم آہنگ کنٹرول ہو، یا گہرے سمندر کی تلاش کے آلات کے لیے ڈیٹا پروسیسنگ ہو، یہ سب خلا پر مبنی کمپیوٹنگ پاور کے ذریعے حاصل کیا جا سکیں گے۔

    ویڈیوز

    زبان