
کلون یاکس کے بچھڑے (تصویر: سی سی ٹی وی)
29 اپریل 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)چائنا میڈیا گروپ کی 27 اپریل کی رپورٹ کے مطابق، چین کی تحقیقاتی ٹیم نے اعلان کیا ہے کہ 25 مارچ سے 5 اپریل تک جنوب مغربی چین کے شی زان خود اختیار علاقے میں پہلی مرتبہ 10 کلونڈ یاکس میں قدرتی طور پر حمل ٹھہرا اور تمام کی پیدائش بھی مصنوعی نہیں فطری انداز میں ہوئی، جو صنعتی پیداوار کے اگلے مرحلے کے لیے ایک حل فراہم کرتی ہے جسے بڑھایا بھی جا سکتا ہے اور فروغ بھی دیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تین سال کی مسلسل کوششوں کے بعد، ایک چینی تحقیقاتی ٹیم نے مکمل جینوم انتخاب اور سومیٹک سیل کلوننگ کو یکجا کرتے ہوئے کامیابی سے، یاک کی مربوط افزائش نسل کی ٹیکنالوجی تیار کی ہے، جو ملکی سطح پر قائدانہ مقام پر جب کہ بین الاقوامی سطح پر ایک ترقی یافتہ درجے تک پہنچ گئی ہے۔
10 جولائی 2025 کو، ٹیم نے خود ساختہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے دنیا کا پہلا سومیٹک سیل کلونڈ یاک تیار کیا، جو شی زانگ میں یاک کی روایتی افزائش نسل میں طویل عرصے سے موجود رکاوٹوں کو عبور کرنے میں "صفر سے ایک تک " کی کامیابی کی علامت ہے۔ کلونڈ بچھڑا پیدائش کے وقت 16.75 کلوگرام وزنی تھا اور 286 دن میں اس کا وزن 183.25 کلوگرام تک ہوگیا۔
سی ایم جی کے مطابق، یاک کی صنعت ان 9 اہم شعبوں میں سے ایک ہے جنہیں 15ویں پانچ سالہ منصوبے کی مدت (2026-30) کے دوران ترجیح دی گئی ہے۔ روایتی طور پر، یاک کی افزائش ،ظاہری صفات کے انتخاب پر مبنی رہی ہے ، جس کا دورانیہ 20 سال تک کا ہوسکتا ہے جس میں کم کارکردگی اور جینیاتی زوال کا خطرہ بھی شامل ہے ۔مکمل جینوم انتخاب اور سومیٹک سیل کلوننگ کی مربوط ٹیکنالوجی نہ صرف ،جین پلازما کے زوال، بہتر نسلوں کی سست افزائش اور کم صنعتی منافع جیسے چیلنجز کے لیے ایک انقلابی حل کی نمائندگی کرتی ہے، بلکہ سائنسی و معاشی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ میں بھی متعدد فوائد فراہم کرتی ہے۔



