• صفحہ اول>>دنیا

    امریکا ایران مذاکرات تعطل کا شکار، ایران کا سخت جوابی کارروائی کا انتباہ

    (CRI)2026-04-30

    مقامی وقت کے مطابق 29 اپریل کو امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا ایران پر اس وقت تک بحری ناکہ بندی جاری رکھےگا جب تک کہ ایران ایسا معاہدہ کرنے پر آمادہ نہ ہو جائے جو اس کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی خدشات کو دور کر سکے۔ اس حوالے سے تین باخبرشخصیات نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف "مختصر لیکن شدید" حملے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ تاہم، اس دن ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں ٹرمپ نے کسی مخصوص فوجی منصوبے کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔

    ادھر ایران کے پریس ٹی وی نے 29 تاریخ کو ایک نامعلوم سینئر سیکیورٹی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ اگر امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی جاری رکھی تو ایران امریکہ کی "مسلسل بحری قزاقی" کے جواب میں "ٹھوس اور بے مثال انداز میں فوجی کارروائی" کرے گا۔ ایران کی مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اس دن ایک آڈیو خطاب کرتے ہوئے ایرانی عوام پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر دشمن کی نئی سازش کو ناکام بنائیں۔ اسی دن ایرانی ماہرین کی کونسل، جو ایران کے سپریم لیڈر کے انتخاب، نگرانی اور برطرفی کا ذمہ دار اعلیٰ ترین انتظامی ادارہ ہے، نے کہا کہ مذاکراتی ٹیم ایران کے سپریم لیڈر کے حکم اور ہدایات کے مطابق سفارتی کوششوں کے ذریعے مسئلے کے حل کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے۔

    ویڈیوز

    زبان