مقامی وقت کے مطابق 30 اپریل کو ، جاپان کے حالیہ جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے اقدامات کے تناظر میں، اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن کے تخفیفِ اسلحہ امور کے کونسلر شو فینگ نے سلامتی کونسل کے ایک متعلقہ اجلاس میں جاپان کی حالیہ جوہری پالیسی سے متعلق سرگرمیوں پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔
چینی مندوب نے کہا کہ جاپان اس وقت ایک "جوہری دہلیز" کی حالت میں ہے اور وہاں کی دائیں بازو کی قوتوں کے جوہری عزائم نے بین الاقوامی برادری کو سنگین چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔ شو فینگ نے واضح کیا کہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ معاہدے کے تحت جاپان ایک غیر جوہری ریاست کے طور پر اس بات کا پابند ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہ بنائے، نہ رکھے اور نہ ہی ان کے پھیلاؤ میں کسی قسم کا کردار ادا کرے۔یہ جاپان کی بین الاقوامی ذمہ داری ہے جسے اسے ضرور پورا کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کئی پہلوؤں سے تشویشناک ہے۔ تکنیکی اعتبار سے جاپان کے پاس ری پروسیسنگ کی جدید صلاحیت موجود ہے، فعال تنصیبات قائم ہیں اور اس کے پاس سویلین ضروریات سے کہیں زیادہ پلوٹونیم ذخیرہ کیا گیا ہے۔ صلاحیت کے لحاظ سے جاپان کم وقت میں جوہری پیش رفت کرنے کی اہلیت رکھتا ہے ۔



