امریکی براڈکاسٹنگ کمپنی (ABC) کی 4 مئی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ایران پر امریکی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کے دوران ضبط کیے گئے ایرانی سامان بردار بحری جہاز "توسکا" (Touska) اور اس کے عملے کو پاکستان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
ترجمان نے بتایا ہے کہ امریکی فوج نے عملے کے 22 اراکین کو پاکستان کے حوالے کر دیا ہے۔ اس سے قبل، جہاز پر موجود 6 افراد کو واپس بھجوایا جا چکا ہے۔ ایرانی حکام کی تصدیق کے مطابق، یہ 6 افراد عملے کے اراکین کے اہل خانہ تھے۔
مقامی وقت کے مطابق 19 اپریل کو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا کہ اسی دن ایرانی پرچم کے ساتھ چلنے والا "توسکا" نامی سامان بردار بحری جہاز امریکی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا، جس پر امریکی فوج نے اسے روکنے کے لیے اقدام کیا۔ چونکہ عملے نے امریکی فوج کے جہاز روکنے والے انتباہ پر عمل کرنے سے انکار کر دیا تھا ، اس لیے امریکی بحری جہاز نے "توسکا" کے انجن روم کو نشانہ بنایا جس سے وہ رکنے پر مجبور ہو ا۔اس کے بعد امریکی فوج نے جہاز کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا ۔ 20 اپریل کو، امریکی ذرائع کے مطابق، امریکی فوج نے جہاز پر لدے ہوئے ہزاروں کنٹینرز کی تلاشی بھی لی۔



