6 مئی 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) مارچ کے اواخر میں، بیجنگ کے نواحی گاوں دونگ شاو چو کے پہاڑآڑو اور خوبانی کے پھولوں کی چادر اوڑھ لیتے ہیں ۔ نرم گلابی اور سفید پتیاں آہستہ آہستہ گاؤں کے سکول کی کھڑکیوں، بزرگ خاتون کے گھر کے خاموش صحن اور بہار کی کھیتوں کی تازہ کھدی ہوئی مٹی پر گرتی ہیں۔
تاہم گہری رنگت اور دبلی پتلی جسامت والے 51 سالہ فرسٹ سیکریٹری، لی چوان شینگ کے پاس پھولوں کی تعریف کرنے کا وقت نہیں تھا۔ بیجنگ فارن سٹڈیز یونیورسٹی کی جانب سے یہاں بھیجے گئے لی چوان شینگ ،دو سال سے می یون ڈسٹرکٹ کے اس پُرسکون گاؤں میں رہ رہے ہیں، گاؤں والے انہیں پیار سے "ٹیچر لی" کہتے ہیں۔

پروفیسر لی چوان شینگ ، بیجنگ کی می یون ڈسٹرکٹ کے دونگ شاو چو پرائمری سکول میں، پیپلز ڈیلی آن لائن کو انٹرویو دے رہے ہیں۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن۔ چھانگ شا)
چین بھر میں سرکاری محکموں،جامعات اور ریاستی ملکیت کے اداروں سے بھیجے گئے عملے کے انتہائی مخلص اور بےلوث ان افراد کو "فرسٹ سیکریٹری" کہاجاتا ہے۔ دیہی علاقوں میں مصروفِ عمل ان لوگوں کا مشن، مقامی صنعتوں کی ترقی میں مدد دینا اور لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہے۔
لی کہتے ہیں کہ وہ خود بھی ایک گاوں میں پیدا ہوئے ہیں اور ان کی سب سے بڑی خواہش ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ اپنے گاؤں والوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں ان کی مدد کر سکیں۔
ٹیچر لی کی جسمانی کسرت کی کلاس

پروفیسر لی چوان شینگ ، بیجنگ کی می یون ڈسٹرکٹ کے دونگ شاو چو پرائمری سکول میں بچوں کو جیاودی کی تربیت دے رہے ہیں۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن/پھینگ یوکھائی)
لی کےدن کا آغاز ،گاؤں کے پرائمری اسکول سے ہوتا ہے۔
لی چوان شینگ بیس سال سے زیادہ عرصے تک بیجنگ فارن سٹڈیز یونیورسٹی میں قدیم چینی طرز کی کشتی "جیاودی" کے استاد رہے ۔ انہوں نے اس روایتی کھیل کو ہنگری اور پولینڈ کے سکولز میں بھی متعارف کروایا اور اب وہ یہ کشتی دونگ شاؤ چو گاوں کے بچوں کو سکھا رہے ہیں۔
گھنٹی بجی تو ایک جیسے ٹریننگ سوٹس پہنے ، آٹھ بچے پہلے سے ہی انتظار کر رہے تھے اور جیسے ہی لی اندر آئے، وہ ان کے گرد خوشی سے جمع ہو گئے۔ ان میں 10 سالہ جانگ ہونگ بھی تھا جس کے بارے میں لی کا کہنا ہے کہ پہلے پہل وہ بے حد شرمیلا سا لڑکا تھا ، اب وہ سڑک پر انہیں دیکھتے ہی بلند آواز میں ان کا نام پکارتا ہے اور ہاتھ ہلاتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے پورے دن کا سب سے خوشگوار لمحہ ہوتا ہے۔

بیجنگ کی می یون ڈسٹرکٹ کے دونگ شاو چو پرائمری سکول میں بچے ، انگریزی زبان کی تصویری کہانیوں والی کتاب پڑھ رہے ہیں۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن۔ چھانگ شا)
لی کی یونیورسٹی کے رابطوں کے ذریعے عطیہ کی گئی کتب ، یہاں کے بچوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہیں۔ دونگ شاو چو پرائمری سکول کے وائس پرنسپل، گو حونگ یان کہتے ہیں کہ شہری اور دیہی بچوں کے درمیان سب سے بڑا فرق ان کے خیالات کے افق کی وسعت ہے۔ ٹیچر لی اس گاؤں میں نئے خیالات اور ایک وسیع دنیا لائے ہیں ۔
ٹیچر لی جیسے لوگ، خاموشی سے دیہی علاقوں میں بہتر تعلیم اور نئے مواقع لے کر آتے ہیں، امید کے بیج بوتے ہیں جو ایک دن تناور درخت بن جائیں گے ۔

لی چوان شینگ ، بیجنگ کی می یون ڈسٹرکٹ کے گاوں دونگ شاو چو میں تنہا رہنے والی معمر خاتون دیا شو فانگ کو کھانا تیار کر کے پیش کر رہے ہیں۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن۔ پھینگ یوکھائی)
سکول کے بعد لی چوان شینگ کا اگلا پڑاو ، 81 سالہ بیوہ دیا شو فانگ کا گھر ہوتا ہے جو بیوہ ہیں اور اکیلی رہتی ہیں۔دِیاؤ نے اپنی پوری زندگی اسی گاؤں میں گزاری ہے۔ انہیں موسم بہار میں پہاڑوں پر کھلے خوبانی کے پھولوں سے بے حد محبت ہے۔ حالانکہ ان کے بچوں نے انہیں اپنے ساتھ شہر منتقل ہونے کے لیے کہا تھا، لیکن وہ وہاں نہیں رہ پائیں اور واپس آ گئیں۔ لی چوان ان کے لیے کھانا بناتے ، گھر کے دیگر کام کرتے ہیں اور ان کی صحت کا خیال رکھتے ہیں۔

لی چوان شینگ ، بیجنگ کی می یون ڈسٹرکٹ کے گاوں دونگ شاو چو کی کسان، جیا حائی لیان کے ساتھ ٹماٹروں کی فروخت کو بڑھانے کے طریقوں پر بات کر ہے ہیں۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن ۔ جانگ رونگ)
سہ پہر میں، لی چوان شینگ گاوں کے گرین ہاوس جاتے ہیں ۔ زراعت ہمیشہ سے اس گاوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور یہاں کا ٹماٹر اعلی معیار کا ہے جس پر نہ تو جراثیم کش ادویہ کا چھڑکاو ہوتا ہے اور نہ ہی یہ مصنوعی کھاد میں اگائے جاتے ہیں۔ تاہم یہاں کے 60 سے زائد کسان اتنی شاندار خصوصیات کی حامل فصل کو بھرپور انداز میں فروخت کرنے کے لیے انٹرنیٹ کے استعمال سے نا واقف تھے ۔
لی کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ انہوں نے مختصر ویڈیوز بنانا شروع کیں ، انہیں آن لائن پوسٹ کیا اور آہستہ آہستہ،انہیں توجہ ملنے لگی۔یہاں تک کہ تیراکی کی اولمپک چیمپئن لو شوئے جوان نے بھی یہ ٹماٹر استعمال کیے اور ان کی تشہیر میں مدد کی۔ جلد ہی، بیجنگ کے کچھ سابق طلبہ کسانوں کی مشاورت اور براہ راست خریداری کے لیے لی کے گاؤں آنے لگے۔
لی چوان شینگ ، بیجنگ کی می یون ڈسٹرکٹ کے گاوں دونگ شاو چو میں کسانوں کے ساتھ مل کر کھیوں میں کاشت کاری کر رہے ہیں۔




