5 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے جہازرانی میں "سہولت" فراہم کرنے کے لیے "پراجیکٹ فریڈم "" کو عارضی طور پر معطل کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ "پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر" اور ایران کے خلاف امریکی کارروائی کی "زبردست فوجی کامیابی" کی روشنی میں، ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی "مکمل اور مؤثر طریقے سے جاری رہے گی"، جب کہ "پراجیکٹ فریڈم " کو مختصر مدت کے لیے روک دیا گیا ہے۔ " امریکا کی جانب سے یہ نام نہاد منصوبہ 48 گھنٹے بھی مکمل نہیں کر سکا ہے۔ 4 مئی کو ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے امریکی جنگی جہاز پر انتباہی فائرنگ کی۔
پاکستانی نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 5 مئی کی شام کو کہا کہ پاکستان، امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے اپنی ثالثی جاری رکھے ہوئے ہے اور یقین رکھتا ہے کہ "اہم پیش رفت" ہو سکتی ہے۔ اسلام آباد میں سفیروں اور سفارتی مشنز کے ارکان سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور امید ہے کہ متعدد ممالک کی حمایت سے تنازع کو مشاورت کے ذریعے "جیت-جیت" کے طور پر حل کیا جائےگا۔
5 تاریخ کو منعقدہ پریس کانفرنس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ اس سال فروری کے آخر میں امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کیا گیا "آپریشن ایپک فیوری" فوجی آپریشن ختم ہو گیا ہے، "ہم نے مشن کا یہ مرحلہ مکمل کر لیا ہے"۔ اسی دن ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر برائے خارجہ امور علی ولایتی نے ایک بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا بدستور حالت جنگ میں ہیں اور ایران اپنی "مزاحمت" جاری رکھے گا۔



