امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے6 تاریخ کو وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران "انتہائی نتیجہ خیز" بات چیت ہوئی ہے اور "قوی امکان" ہے کہ دونوں ممالک آخرکار کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔
اسی دن، ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں بار بار اس امید کا اظہار کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ ممکن ہے۔ ان کے مطابق ممکنہ معاہدے میں یہ شرط بھی شامل ہو سکتی ہے کہ ایران اپنی اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم امریکہ منتقل کرے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ امریکہ ایک معاہدے کے قریب پہنچ رہا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے دھمکی آمیز انداز میں یہ بھی کہا کہ "اگر ایران نے اتفاق نہ کیا تو پھر ہم بمباری کریں گے۔"
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے 6 مئی کو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکی میڈیا پر سامنے آنے والے بعض امریکی بیانات "امریکی خواہشات کی فہرست ہیں، حقیقت نہیں"۔ انہوں نے کہا کہ "جو چیز امریکہ براہِ راست مذاکرات میں حاصل نہیں کر سکا، وہ ایک ناکام جنگ کے ذریعے بھی حاصل نہیں کر سکے گا۔" رضائی نے مزید خبردار کیا کہ اگر امریکہ ضروری رعایتیں دینے پر آمادہ نہ ہوا تو ایران "جوابی کارروائی کے لیے تیار ہے"۔



