
24 جون 2025 ۔ صوبہ گوانگ دونگ کے شہر دونگ گوان میں انٹیلیجنٹ روبوٹکس کے صوبائی ادارے میں زیر آب انٹیلیجنٹ روبوٹ کا تجربہ کیا گیا۔ (شنہوا۔دینگ حوا)
7 مئی 2026(پیپلز ڈیلی آن لائن) ایک سٹیل کیمیکل ٹینک پر بغیر حفاظتی سازو سامان کے چلتا ہوا ایک وجود ، جس کے ایک ہاتھ میں ویلڈنگ ٹارچ ہے اور دوسرا ہاتھ نقص کی جانچ کر رہا ہے۔ یہ کسی سائنس فکشن فلم کا منظر نہیں بلکہ یہ چین کی پر خطر صنعتی سرگرمیوں میں جدید "ایمباڈیڈ اے آئی " کی ترقی کا عملی منظر ہے۔
چین کے صوبے جہ جیانگ میں ایک ٹیکنالوجی کمپنی کا تیار کردہ یہ روبوٹ جدید اے آئی اور روبوٹکس کے انضمام میں ایک اہم پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ کیمیکل پلانٹس اور جہازوں کے بڑے ڈھانچوں میں انسانوں کی جگہ لینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ RobotPlusPlus کے سی ای او، شو حوا یانگ کا کہنا ہے کہ پہلے، مزدوروں کو کئی گھنٹوں تک کڑی دھوپ اور تیز ہوا میں لٹک کر انتہائی سخت حالات میں کام کرنا پڑتا تھا لیکن اب، ایک آرام دہ کنٹرول روم میں ایک آپریٹر وی آر چشمے کے ذریعے روبوٹ کو کنٹرول کر سکتا ہے اور اس کا رد عمل ملی سیکنڈز میں سامنے آتا ہے۔خاص آپریشنز کے لیے تربیت یافتہ اس اے آئی ماڈل سسٹم کی مطابقت پذیری کو وہ اس کے "دماغ" سے منسوب کرتے ہیں ۔ ان کے مطابق، یہ ماڈل چین میں سب سے زیادہ ڈیٹا کا حامل ہے ، جس میں 100,000 گھنٹوں سے زیادہ کا عملی تجربہ اور زمین کے نصف محیط سے زیادہ کا فاصلہ طے کرنے کا ریکارڈ ہے۔
زیر آب کیبل شناخت کرنے والے روبوٹ اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ چین کی "ایمباڈیڈ اے آئی"کی ترقی صرف چڑھائی چڑھنے والے روبوٹس تک محدود نہیں ہے۔ یہ زیر آب "سکاؤٹ" ، سطح آب پر عملے سے عاری جہازوں کے ساتھ مل کر ، 300 میٹر کی گہرائی میں خود مختار طور پر کیبلز کی جانچ کر سکتا ہے ، روایتی طریقوں کے مقابلے میں معائنہ کی کارکردگی کو دس گنا بڑھاتا ہے اور چین کے گہرے سمندر کی توانائی نیز مواصلات کے نظام کی سکیورٹی کو مضبوط کرتا ہے۔
چین کے زرعی شعبے میں اناج کی بوائی کے لیے زمین ہموار کرنے والا ایک جدید روبوٹ اناج کی بیجائی کے طریقہ کار کو تبدیل کر رہا ہے۔ اپنے سپائرل پہیوں کے ساتھ، یہ زمین پر بکھرے ہوئے اناج کے اوپر ہموار طریقے سے حرکت کرتا ہے، جس کی بدولت تین روبوٹ ایک 1,400 مربع میٹر کے حصے کو ایک دن سے بھی کم وقت میں ہموار کر سکتے ہیں جب کہ یہی کام تین انسان، تین دن میں کرتے ہیں۔ یہ جدت چین کے پانچ سالہ منصوبے کے ساتھ ہم آہنگ ہے ، جس میں اقتصادی ترقی کے لیے مجسم اے آئی کو روبوٹکس، اے آئی اور 6 جی میں ایک اہم محرک کے طور پر اہمیت دی گئی ہے۔ ایک مضبوط صنعتی ماحولیاتی نظام کی معاونت سے، دریا ئے یانگسی ڈیلٹا، پرل ریور ڈیلٹا اور بیجنگ-تھیانجن-حہ بے کے علاقے میں اہم مراکز تشکیل پا چکے ہیں، جہاں 24,000 سے زائد کمپنیز اور بنیادی اجزا سے لے کر نظام کے مکمل انضمام تک تمام افعال کا احاطہ کیا جاتا ہے ۔
چین کے معیاری لاجسٹکس سے لے کر پر خطرآپریشنز تک پھیلے ہوئے وسیع صنعتی منظرنامے سے چین نے اپنی روبوٹکس کی صنعت کو عملی ترقی کی طرف بڑھایا ہے۔ یہ تبدیلی، جو دنیا کے سب سے متنوع" ٹیسٹنگ گراؤنڈ" کی طاقت سے چل رہی ہے، اب عالمی روبوٹکس مارکیٹ کی ویلیو چین کو ازسرِ نو تشکیل دے رہی ہے۔



