• صفحہ اول>>سائنس و ٹیکنالوجی

    چین میں نئی ٹیکنالوجیز اور جدید آلات ، "سمارٹ فارمنگ" کے معاون

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-05-08
    چین میں نئی ٹیکنالوجیز اور جدید آلات ،
    پودوں میں افزائش کا ایک سمارٹ روبوٹ GEAIR ، ہائبرڈ پولینیشن کر رہا ہے۔ (شنہوا/جن لی وانگ)

    8 مئی 2026(پیپلز ڈیلی آن لائن)۔ چین کی زراعت ہائی ٹیک تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے اور جدید اختراعات کارکردگی اور پیداوار کو بڑھا رہی ہیں۔ اب زرعی پیداوار میں تقریباً 64 فیصد ترقی ،سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کی بدولت ہے جو جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی زراعت کی طرف ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔چین میں فصلوں کی اقسام کی بہتر کوریج 96 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، جب کہ فصل کی کاشت اور کٹائی کے لیے جامع میکانائزیشن کی شرح 76.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ سمارٹ آلات زراعت کو زیادہ مؤثر اور کم محنت طلب بنا رہے ہیں۔

    چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف جینیٹکس اینڈ ڈویلپمنٹل بائیولوجی کے محقق شو ٹساو کا کہنا ہے کہ روایتی ہائبرڈ افزائش، سست اور محنت طلب ہے، اس میں پہلے ہاتھوں سے انفرادی طور پر زردانے کو نکالا جاتا تھا اور پھولوں کی زیرگی کی جاتی تھی۔ لیکن آج ، جینیاتی ترامیم اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ، روبوٹ پھولوں کی درست شناخت اور زیرگی کر سکتے ہیں ۔ مثلاً جینیاتی ترامیہم کے باعث ٹماٹر اور سویا بین کے پھول قدرتی طور پر اپنے زردانے ظاہر کرتے ہیں، جس سے دستی محنت ختم ہو جاتی ہے۔ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کا ملاپ ،ٹماٹر کی افزائش کی مدت پانچ سال سے کم ہو کر ایک سال تک ہو سکتی ہے جس سے مزدوری کے اخراجات میں 25 فیصد سے زیادہ کی بچت ہوتی ہے اور سویا بین کے لیے مصنوعی زیرگی کے وقت کو 76.2 فیصد تک کم ہوتا ہے۔

    شمال مغربی چین کے صوبے گانسو کے شہر ،دنگ شی کے کسان جاو بن ، ایک pivot steering ٹریکٹر کے ذریعے کام کرتے ہیں۔ یہ مشین آرٹی کیولیٹڈ سٹیئرنگ کے ساتھ ڈیزائن کی گئی ہے، جو اسے آسانی سے مقررہ علاقے میں حرکت کرنے کی سہولت دیتا ہےاور یہ علاقے کی ڈھلوان، ٹکڑوں میں کٹی ہوئی زمین کے لیے مثالی ہے۔جاو بن کا کہنا ہے کہ روایتی ٹریکٹر بہت بڑے تھے اور تنگ موڑ پر گھومنے اور حرکت کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے اس لیے ہاتھ سے کام پر انحصار کرنا پڑتا تھا جب کہ یہ نیا ٹریکٹر ، 3 میٹر سے کم چوڑے تنگ حصوں میں بھی ایک ہی مرتبہ ،ہل چلانے ، بیج بونے اور کھیتوں میں پیلیاں بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ٹریکٹر مشکل زمین کے لیے بنایا گیا ہے اور اس میں ایک مخصوص نیویگیشن سسٹم شامل ہے جو نا ہموار کھیتوں میں راستے کا نقشہ بناتا ہے۔

    یہ جدت طرازی ایک طویل مدتی چیلنج کا حل بھی پیش کرتی ہے۔ گانسو صوبے میں، 76 فیصد زرعی زمین پہاڑوں پر یا پہاڑی علاقوں میں واقع ہے، جہاں 60 فیصد سے زیادہ خصوصی مقامی صنعتیں بھی ہیں۔

    ہموار زمینوں کے مقابلے میں، ان علاقوں میں زرعی مشینری کی مارکیٹ چھوٹی ہے، کسانوں کی خریداری کی استطاعت محدود ہے ۔یہی وجہ ہے کہ کمپنیز نے تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی ہے جس کے باعث ، دستیاب اور موزوں مشینری کی طویل مدتی کمی پیدا ہوئی، جو پہاڑی علاقوں میں زرعی ترقی کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن گئی ۔

    اس خلا کو پر کرنے کی خاطر ، گانسو نے زرعی مشینری کی موافقت کو بہتر بنانے کے لیے ایک مربوط پائلٹ منصوبہ شروع کیا ، جس میں ادارے جدت لاتے ہیں، کسان اس کی توثیق کرتے ہیں اور تحقیقی ادارے تکنیکی چیلنجز حل کرتے ہیں۔گانسو صوبے کے محکمہ زراعت و دیہی امور کے مطابق، 2025 میں، گانسو کے پہاڑوں اور پہاڑی علاقوں میں میکانائزیشن کی شرح 67 فیصد تک پہنچ چکی تھی۔

    وسطی چین کے صوبے، حہ نان کےشہر یونگ چھینگ میں بھی زرعی امور ہائی ٹیک ہو رہے ہیں۔ یہاں ، فینگ لی ایک زرعی تعاون کا سربراہ ہے، جس کے تحت ایک سمارٹ فارم کام کر رہا ہے جہاں خودکار نظام روزمرہ کے کام کا حصہ ہیں۔ جب فینگ لی کا فون بجتا ہے ، تو اس کو پتہ چل جاتا ہے کہ یہ زرعی ایپ سے انتباہ ہے کہ کسی کھیت کو پانی کی ضرورت ہے۔ فینگ کی ایک انگلی کی حرکت سے ، 5 جی آبپاشی کا نظام فعال ہو جاتاہے ، پانی اور غذائی اجزاء کو زیر زمین ڈرپ لائنز کے ذریعے فارم میں لگی مولی کی جڑوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ یہ فارم مٹی کے سینسرز اور ماحولیاتی نگرانی کے آلات کا استعمال کرتا ہے تاکہ رئیل ٹائم ڈیٹا جمع کیا جا سکے۔ یہ ڈیٹا ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو فراہم کیا جاتا ہے جو آبپاشی اور کھاد ڈالنے کے معمول اور نظام کو بہتر بناتا ہے۔ نتیجتاً، پانی کا استعمال فی مو (1 مو تقریباً 667 مربع میٹر ہے) 30 فیصد کم ہو گیا ہے اور زرعی کیمیکلز میں 25 فیصد کمی آئی ہے۔

    حہ نان اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز سے تعلق رکھنے والے لی گوچیانگ کہتے ہیں کہ بغیر ڈرائیور کے ٹریکٹر ، بے حد صفائی کے ساتھ برابر فاصلے کےکھیت بناتے ہیں، آبپاشی کے نظام خود بخود چلتے ہیں کھاد دینے کے لیے ڈرون اڑان بھرتے ہیں۔یہاں زراعت جسمانی محنت سے تکنیکی امور کی طرف منتقل ہو چکی ہے۔

    ویڈیوز

    زبان