• صفحہ اول>>دنیا

    آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ

    (CRI)2026-05-09

    مقامی وقت کے مطابق 8 تاریخ کی صبح، ایران کی مسلح افواج کے خاتم الانبیاء سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے ساحلی شہر جاسک سے آبنائے ہرمز کی جانب جانے والے ایک آئل ٹینکر اور متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ الفجیرہ کے سامنے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے ایک اور جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔

    بیان کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے اس کے جواب میں آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے اور چابہار بندرگاہ کے جنوب میں موجود امریکی جنگی جہازوں پر جوابی کارروائی کی۔

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے 7 مئی کو جاری بیان میں کہا کہ امریکی بحریہ کے میزائل شکن جنگی جہازوں کے بیڑے نے آبنائے ہرمز سے خلیجِ عمان کی جانب سفر کے دوران ایران کے بلا اشتعال حملے کو ناکام بنایا، جس کے بعد دفاعی ردعمل کے طور پر امریکی افواج پر حملوں میں ملوث ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ۔

    اسی دوران ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے سات تاریخ کو کہا کہ تہران نے ابھی تک امریکی تجویز پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی امریکہ کو کوئی باضابطہ جواب دیا ہے۔ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی حکومت سمجھتی ہے کہ ایران کے ساتھ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے قریب پہنچا جا چکا ہے۔

    ادھر 7 مئی کو امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے مشرقِ وسطیٰ کے اتحادی ممالک کو سینکڑوں فضائی دفاعی میزائل اور دیگر اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دے دی، جن کی مجموعی مالیت 25.8 ارب امریکی ڈالر بتائی گئی ہے۔

    ویڈیوز

    زبان