• صفحہ اول>>تبصرہ

    ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیش  قدر اعتماد کے ساتھ چین کا دورہ : گلوبل ٹائمز

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-05-09

    ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی 6 مئی کو اپنے دورہِ چین کے آغاز پر بیجنگ پہنچے ۔ یہ، ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد ایران کے اعلیٰ سفارت کار کی جانب سے چین کا پہلا دورہ ہے۔ اس وقت مشرق وسطیٰ کی صورتحال بے حد حساس اور انتہائی غیر یقینی ہے۔ چین اور ایران کے درمیان بات چیت کایہ دور، بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے ماحول میں امن کے قیام کی مثبت علامت ہے۔ عوامی رائے عامہ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اس بات چیت میں "اعتماد" ایک کلیدی لفظ رہا ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران، چینی صدر شی جن پھنگ کی جانب سے خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے حوالے سے پیش کی گئی چار نکاتی تجویز کو بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس کی مکمل حمایت کرتا ہے، انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ "ایران، چین پر اعتماد کرتاہے۔" یہ اعتماد بین الاقوامی برادری کی جانب سے،چین کے چار نکاتی منصوبے اور اس کے مثبت کردار کی وسیع پیمانے پر قدر شناسی اور ردعمل کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

    بنیادی طور پر ، طویل عرصے سے مشرق وسطی کے غیر منقسم سلامتی کے اصول کو نظر انداز کرنے سے اس خطے کے مسائل کا آغاز ہوا ۔ چین کی تجویز اس مسئلے کے جڑ تک پہنچتی ہے یعنی ،خودمختاری کا احترام کیا جانا چاہیے، قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنا ضروری ہے اور ترقی، سلامتی کی حتمی ضمانت ہے۔ یہ نکات صرف کسی ایک فریق کی حمایت نہیں کرتے اور ان کو وسیع پیمانے پر تسلیم کیا گیا ہے، کیونکہ یہ مختلف ممالک کے لوگوں کی" جنگ کے سائے کے بغیر جینے کی" سب سے بنیادی خواہش کی عکاسی کرتے ہیں۔

    28 فروری کو، ایران کے خلاف امریکا-اسرائیل کی فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد سے، چین نے مشرق وسطی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے مستحکم قوتیں شامل کرنے کے لیے مسلسل ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔ اپریل کے وسط میں، صدر شی جن پھنگ نے چین کے دورے پر آئے ہوئے ابوظہبی کے ولی عہد زاید النہیان سے ملاقات کے موقع پرمشرق وسطی میں امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے پرامن بقائے باہمی کے اصول کی پاسداری، قومی خودمختاری کے اصول کی پیروی ، بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کے اصول اور ترقی و سلامتی کی ہم آہنگی کے اصول کی پابندی پر مشتمل چار نکاتی تجویز پیش کی۔

    مارچ کے اواخر میں ، تنازع میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے ملک پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ، محمد اسحاق ڈار مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کرنے کے طریقہ کار پر بات چیت کرنے کے لیے خصوصی دورے پر چین آئے ، مذاکرات کیےاور مشترکہ طور پر پانچ نکاتی منصوبہ پیش کیا۔جب سے جنگ شروع ہوئی ہے، چین نے مختلف فریقین کے مابین ثالثی کے لیے شٹل ڈپلومیسی اور دیگر کوششیں جاری رکھی ہیں تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

    ٹیلیفون کالز ہوں یا دو بہ دو ملاقاتیں ہوں ، چین نے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ جب علاقائی سلامتی شدید آزمائش سے گزر رہی ہو تو چین کو ایک قابل اعتماد ،سٹریٹجک شراکت دار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ اعتماد، چین کے منطقی طرز عمل اور انصاف کو برقرار رکھنے، نظریے کی بنیاد پر حدود مقرر نہ کرنے اور کسی ایک واقعے یا لمحے کی بنیاد پر موقف نہ بدلنے کے مستقل رویے کا نتیجہ ہے۔ جتنی زیادہ صورت حال غیر مستحکم ہوگی، اتنا ہی یہ باہمی اعتماد بیش قدر ہو جائے گا۔

    چین مشرق وسطیٰ کے تنازعات کا فریق نہیں ہے اور نہ ہی اس کا کوئی جیو پولیٹیکل مفاد ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان تاریخی مفاہمت کو فروغ دینے سے لے کر 14 فلسطینی دھڑوں کے مابین تقسیم کے خاتمے اور فلسطینی قومی اتحاد کو مضبوط کرنے کے لیے بیجنگ اعلامیے پر دستخط کرنے میں معاونت تک، چین نے ہمیشہ بات چیت کے لیے پلیٹ فارم بنانے، مذاکرات کے لیے سازگار حالات پیدا کرنےاور تمام فریقین کےمنطقی خیالات ایک دوسرے تک پہنچانے کے لیے کام کیا ہے۔

    موجودہ علاقائی صورتحال جنگ اور امن کے درمیان ایک اہم موڑ پر ہے۔ چین نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ مذاکرات کا دروازہ کھلا رہنا چاہیے ،بات چیت کرنا لڑائی جاری رکھنے سے بہتر ہے۔ یہ تنازع میں شامل تمام فریقین سے کی جانے والی ایک مخلصانہ اپیل اور بین الاقوامی برادری کی امن کے لیے مشترکہ خواہش کی عکاسی ہے۔

    مشرق وسطی کی موجودہ صورتحال میں سب سے تکلیف دہ مسئلہ ،آبنائے ہرمز سے نقل وحمل کا ہے۔تیل کی عالمی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ اس آبی گزرگاہ پر انحصار کرتا ہے اور اسے جیو پولیٹیکل مقابلوں میں سودے بازی کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔چین کا موقف واضح اور مستقل ہے، خلیج میں محفوظ اور معمول کے راستے کی بحالی بین الاقوامی برادری کا کی مشترکہ تشویش کا معاملہ ہے اسے فوری طور پر کھلنا چاہیے اور امید ہے کہ شامل فریقین بین الاقوامی برادری کی بھرپور اپیلوں کا فوری جواب دیں گے۔اگر یہ آبی گزرگاہ بند رہے گی تو اس کا اس کا حتمی نقصان لامحالہ عالمی معیشت کی پیچیدہ بحالی اور عوام کی روزمرہ زندگیوں پر پڑے گا۔ کشیدگی کو کم کرنے اور خلیج میں معمول کی نیویگیشن کی بحالی کو فروغ دینا ایک انسانی ضرورت اور بڑی طاقتوں کی ذمہ داری ہے۔

    چین اور ایران کے تعلقات وقت کی کسوٹی پر پورا اترتے ہیں اور یہ ایک ایسی شراکت داری کی عکاسی کرتے ہیں جو مشکلات کے دوران تشکیل پائی ہے۔ تنازع کے آغاز سے ہی، چین نے ایران کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہنگامی امداد فراہم کی اور مسلسل امن و مکالمے کی وکالت کی ہے۔ چین کا ماننا ہے کہ جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا؛ ہر گزرتا دن مزید جانی نقصان اور تباہی لاتا ہے۔چین ، ایران کی خودمختاری اور قومی وقار کے تحفظ کی حمایت کرتا ہے جب کہ مسائل کے حل کے لیے پرامن مذاکرات کی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے۔ اس سے نہ صرف ایک دوست کی اخلاقی ذمہ داری کی عکاسی ہوتی ہے بلکہ یہ ایک بڑی طاقت کے احساسِ ذمہ داری کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

    دنیا اب مشرق وسطیٰ میں ایک اور طویل جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ علاقائی تنازعات کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں اور گھرانوں پر پڑتے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، شپنگ کے راستوں میں خلل اور اقتصادی بحالی پر پڑنے والے سائے، یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ کی قیمت بالآخر عام لوگوں کو چکانی پڑتی ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کی توقعات مضبوط ہیں اور اس کی جانب سے امن کے فروغ نیز تنازعات کے خاتمے کی تمام کوششوں کا خیرمقدم کیا جاتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ چین، اسی توقع کا جواب ہے اور چین کے تعمیری کردار کا مظہر بھی ہے۔

    امن کبھی خود بخود نہیں آتا؛ اس کے لیے خلوص اور مکالمے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جنگ اور امن کے اس نازک موڑ پر، چین چار تجاویز کے جذبے کو برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔ چین ، مشرق وسطیٰ کے ممالک کی مدد کرے گا تاکہ وہ اچھی ہمسائیگی، ترقی، سلامتی اور تعاون پر مبنی ایک ایسے مشترکہ گھر کی تعمیر کے لیے کام کریں ،کشیدگی کو کم کرنے اور تنازع کے خاتمے کے لیے پرعزم رہیں، امن مذاکرات کی بحالی میں معاونت کریں اور مشرق وسطیٰ میں امن و سکون کی بحالی میں بڑا کردار ادا کریں۔

    یہ چین اور ایران کے درمیان روایتی دوستی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے اور انسانیت کے مشترکہ مستقبل کےتصور کا عملی مظہر بھی ہے۔

    ویڈیوز

    زبان