
9 مئی کو, چین کی وزارت دفاع کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ حال ہی میں چین کے شہر سانیا میں چینی ساختہ "چھی لین" کلاس روایتی آبدوزوں میں سے پہلی آبدوز ، پاکستان کے حوالے کر دی گئی۔ یہ چین اور پاکستان کے درمیان معمول کے دفاعی تعاون کا حصہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ہمہ موسمی سٹریٹجک شراکت داری کا واضح مظہر ہے۔ آئیے اب سمجھتے ہیں کہ علاقائی امن و استحکام کے لیے "چھی لین" کلاس آبدوز کی کیا سٹریٹجک اہمیت ہے؟

"چھی لین" ،قدیم چینی افسانوں میں خوش بختی اور قوم کی سلامتی و خوشحالی کی علامت سمجھا جانے والا ایک جانور ہے ۔ اسی مناسبت سے "چھی لین" کلاس کے نام سے بھی عالمی امن و ترقی کے فروغ کی امید وابستہ کی گئی ہے۔ پاکستان نے اس آبدوز کو "ہنگور" کا نام دیا ہے۔
عسکری ماہرین کے مطابق اس آبدوز کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا جدید چینی ساختہ ، اے آئی پی یعنی "ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن" نظام ہے ۔ یہ نظام، آبدوز کو 14 دن تک سطحِ آب پر آئے بغیر خاموش انداز میں زیرِ آب رہنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین اے آئی پی آبدوزوں کو " سیمی نیوکلیئر آبدوز" بھی کہتے ہیں۔ آبدوز کی سٹیلتھ صلاحیتوں میں بڑے اضافے سے مراد یہ ہے کہ دشمن کی آبدوز شکن قوتوں کے لیے اسے تلاش کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ یوں یہ بحر ہند کی گہرائیوں میں خاموشی سے گشت کرتے ہوئے کسی بھی وقت دشمن کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو اسے روایتی آبدوزوں کے مقابلے میں نمایاں برتری فراہم کرتی ہے۔ علاوہ ازیں، آبدوز میں بھاری تارپیڈو لانچر نصب ہیں، جن سے تارپیڈو، آبدوز سے داغے جانے والے اینٹی شپ میزائل اور زمینی اہداف کو نشانہ بنانے والے میزائل فائر کیے جا سکتے ہیں۔ یہ پاکستانی ساختہ ' آبدوز سے لانچ کیے جانے والے بابر 3 کروز میزائل' کو بھی لانچ کر سکتی ہے، جس کی رینج 700 کلومیٹر ہے۔ اس طرح یہ آبدوز روایتی اور جوہری دونوں طرح سے حملہ کرنے کی صلاحیت کی حامل ہے، جو اس کی سٹریٹجک دفاعی اہمیت میں نمایاں اضافے کی علامت ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان ،دفاعی تجارتی تعاون دونوں ممالک کے درمیان معمول کے عسکری تعاون کا حصہ ہے اور کسی تیسرے فریق کے خلاف نہیں ہے۔ یہ چین اور پاکستان کے درمیان ہمہ موسمی اسٹریٹجک شراکت داری کی گہرائی کی عکاسی کرتا ہے اور عالمی دفاعی مارکیٹ میں چین کی فوجی ٹیکنالوجی کی مسابقت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔



