11 مئی 2026(پیپلز ڈیلی آن لائن)2018 میں کھانے کی ترسیل کی صنعت میں قدم رکھنے والے نوجوان، چھین کو ابتدا میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ غیر مانوس راستے، ترسیل میں تاخیر اور گھروں کا اتا پتا تلاش کرنے میں مشکلات نے اسے اس حد تک پریشان کر دیا کہ وہ اس کام کو چھوڑنے کے بارے میں سوچنے لگا ۔ لیکن اس نے ایک مرتبہ پھر سے خود کو تیار کیا ، پرانے رہائشی کمپلیکس کے نقشے کو باریک بینی سے سمجھا، ریستوران کی تیاری کے اوقات پر نظر رکھی، مصروف اوقات میں لفٹ کے انتظار کے اوقات کا حساب لگایا اور عمارت میں داخلے کے طریقہ کار کو ذہن نشین کیا جس کے بعد اس کی کارکردگی بتدریج بہتر ہوتی گئی۔

چھین یی وین ، اپنے الیکٹرک بائیک پر فوڈ ڈیلیوری کے لیے جا رہا ہے۔
ان تمام سالوں کے دوران ، چھین نے شہر کے تقریباً ہر کونے کا سفر کیا اور ہمیشہ اپنے سٹیشن پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔لیکن چھین کے لیے، کھانے کی ترسیل، صرف رفتار ہی نہیں اس سے بھی آگے کی بات ہے؛ اس کے لیے یہ اس شہر کو کچھ واپس لوٹانے کے بارے میں ہے ، جس شہر نے اسے روزگار دیا ہے۔
2020 کے موسمِ گرما میں اس نے ایک مڈل اسکول کے طالب علم کو دیکھا جو سائیکل سے گرنے کے بعد زخمی ہو گیا تھا۔ اس نے فوراً اپنی فوڈ ڈلیوری کا کام روکا اور بچے کو ہسپتال لے جانے ، رجسٹریشن کروانے اور علاج میں مدد فراہم کی۔2021 کے موسم سرما میں ، جب وہ آرڈرز کی ترسیل میں مصروف تھا، تو اس کی نظر ایک رہائشی عمارت پر پڑی جہاں آگ لگی ہوئی تھی ۔ اس نے ایمرجنسی سروسز سے رابطہ کیا اور اس دوران رہائشیوں کو نکالنے میں مدد کی ۔ اس نے اپٌنی آرڈر ڈلیوری کا آغاز اس وقت تک نہیں کیا جب تک فائر فائٹرز وہاں نہیں پہنچ گئے۔
مئی 2024 میں، چھین کو معلوم ہوا کہ روئی جن کے شاجو با ٹاؤن شپ میں آٹھ ایسے معمر افراد رہتے ہیں جن کی نقل و حرکت بے حد محدود ہے اور انہیں کھانے کے حصول میں مشکل کا سامنا ہے۔ اس نے فوری طور پر مدد کرنے کی پیشکش کی۔ دوپہر کے کھانے کے وقت چھین روزانہ 14 کلومیٹر کا سفر کرتا اور ان تک تازہ کھانا پہنچاتا ۔ چھین کے اس عمل نے اس کے 20 سے زائد ساتھی رائیڈرز کو بھی متاثر کیا اور انہوں نے ضرورت مند رہائشیوں کی مدد کے لیے ایک رضاکار ٹیم تشکیل دی۔
نئی ابھرتی ہوئی صنعتوں میں کارکنوں کی مدد کے لیے، روئی جن نے ایک مخصوص تربیتی پروگرام شروع کیا جو منظم پیشہ ورانہ ترقی اور کیریئر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ چھین نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس میں داخلہ لیا۔ "بنیادی انتظام و انصرام" سے متعلق کورس کے دوران ، ایک انسٹرکٹر کے الفاظ نے اس پر گہرا اثر چھوڑا، انہوں نے کہا تھا کہ "ڈلیوری رائیڈر اور کوریئر ، روزانہ شہر کی ہر گلی کوچے میں سفر کرتے ہیں اور یہی چیز انہیں شہر کے متحرک سینسر بناتی ہے۔"اس جملے سے متاثر ہو کر چھین نے ، "سنیپ اینڈ رپورٹ" کے نام سے ایک وی چیٹ گروپ بنایا۔ اس گروپ میں اب 300 سے زیادہ ڈلیوری رائیڈر ز اور کوریئر شامل ہیں، جو خراب سڑکوں، ناقص عوامی سہولیات اور آگ کے خطرات جیسے مسائل رپورٹ کرتے ہیں۔
اب تک، گروپ کے اراکین کی جانب سے 1,000 سے زیادہ رپورٹس جمع کروائی گئی ہیں، جن میں سے 98 فیصد حل ہو چکی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ گروپ کمیونٹی گورننس میں ایک فعال قوت بن گیا ہے۔
بہترین خدمات فراہم کرنے والے ایک فائیو سٹار رائیڈر سے ، ہنگامی حالات میں آگے بڑھتے روزمرہ زندگی کے ایک ہیرو اور اب شہرکی سڑکوں پر گشت کرتے ایک موبائل انسپکٹر تک ، چھین نے ایک ایسی زندگی کا راستہ بنایا ہے جو خلوص اور گرم جوشی سے بھرپور ہے۔ وہ مہربانی اور ہمدردی کو منتقل کرتا ہےاور کارکنوں کی نئی قسم کی ملازمتوں سے جڑی ذمہ داری اور مشن کی عملی عکاسی کرتا ہے۔



