
9 مئی 2026۔ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں، 12 مئی کے بین الاقوامی نرسز ڈے کے حوالے سے منعقدہ تقریبات کے دوران ، بیجنگ مساج ہسپتال میں طبی عملے کے ارکان خوشگوار انداز میں سرگرمیوں سے لطف اندوز ہو رہی ہیں۔ (شنہوا-ٹسائی یانگ)
12 مئی 2026(پیپلز ڈیلی آن لائن)11 مئی کو چین کے قومی صحت کمیشن (NHC) کی جانب سے مطلع کیا گیا کہ ، چین میں 2020 سے 2025 کے درمیان رجسٹرڈ نرسز کی تعداد میں 29 فیصد اضافہ رپورٹ ہوا اور پچھلے سال کے آخر تک یہ تعداد 6.06 ملین سے زائد ہو چکی تھی۔
2020 میں ہر 1,000 افراد پر رجسٹرڈ نرسز کی تعداد 3.34 تھی جو 2025 میں بڑھ کر 4.32 ہو گئی۔ کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 80 فیصد سے زیادہ نرسز کے پاس کالج کی سطح یا اس سے زائد کی قابلیت ہے۔90 فیصد سے زیادہ نرسز نے ان شعبوں میں خصوصی تربیت حاصل کی ہے جن کی طلب سب سے زیادہ ہے لیکن عملے کی کمی ہے ۔ان میں صحت کی بحالی، بزرگوں اور بچوں کی دیکھ بھال، شدید نگہداشت اور متعدی بیماریوں کی دیکھ بھال جیسے شعبے شامل ہیں ۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں تقریباً 6,000 طبی ادارے سات زمروں میں 60 سے زیادہ اقسام کی "ہوم نرسنگ سروسز" فراہم کررہے ہیں، جن میں ماں اور بچے کی دیکھ بھال، بزرگوں کی دیکھ بھال، دائمی بیماریوں کا بندوبست، صحت کی بحالی میں رہنمائی اور ضرورت مندوں کی دیکھ بھال شامل ہیں۔
قومی صحت کمیشن کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ، وہ نرسنگ ورک فورس کو مزید مضبوط کرنے، نرسز کے لیے مراعات اور معاونت کے اقدامات کو بہتر بنانے، معاون دیکھ بھال کی خدمات کی کوریج کو بڑھانے نیز بزرگوں کی دیکھ بھال کی خدمات تک رسائی کو بڑھانے کے لیے کام جاری رکھے گا۔
اپنے 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) میں، چین 2035 تک صحت مند چین کی تعمیر کے ہدف کی طرف پیش رفت کو تیز کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ منصوبہ عوام کو صحت کی زیادہ مساویانہ اور منظم خدمات فراہم کرنے اور عوامی صحت کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔



