15 مئی 2026(پیپلز ڈیلی آن لائن)چین کے صوبے ننگشیا کے خود اختیارر علاقے ین چھوان کی تھونگ گوئی ٹاؤن شپ میں، چائنیز مِٹن کریب ( کیکڑے) کے ایک ماحول دوست ایکوا کلچر فارم پر قطار سر قطار تالاب بنے ہوئے ہیں۔ اس فارم ہاوس پر 1990کی دہائی میں پیدا ہونے والی نوجوان کاروباری تنظیم کار ، جانگ تھنگ مقامی کسانوں کو پانی کے معیار کے انتظام کی تکنیکوں کے بارے میں سمجھاتے ہوئے انہیں یاد دلاتی ہیں کہ آنے والی گرمی سے پہلے پانی کو بار بار تبدیل کرنا ہے اور کیکڑوں کو بار بار اور تھوڑی تھوڑی مقدار میں کھانا دینا ہے۔
یہ علاقہ جانگ تھنگ کا اپنا آبائی علاقہ ہے جہاں انہوں نے کیکڑوں کی افزائش کا کام شروع کیا ہے۔

ننگشیا کے خود اختیارر علاقے ین چھوان کی تھونگ گوئی ٹاؤن شپ میں جانگ تھنگ ، ایک لائیو سٹریم کے دوران چینی مِٹن کیکڑوں کی پروموشن کر رہی ہیں۔
ین چھوان ، جانگ تھنگ اور ان کے شوہر لیو منگ وے کاآبائی علاقہ ہے۔ 2019 سے پہلے وہ سیلز کے شعبے سے وابستہ تھے اور کہیں اور کام کرتے تھے لیکن جب بھی وہ اپنے گھر آتے تو وہاں انہیں دریائے زرد کے کنارے پر ایک وسیع لیکن متروک زمین کا ٹکڑا نظر آتا، آبی زراعت کا یہ وسیع لیکن خالی فارم ان کے ذہن میں کھٹکتا تھا۔ اس زمین کے ٹکڑے کا کیا کیا جائے؟
ایک دورے کے دوران اچانک ان کے ذہن میں ایک خیال کوندا: ین چھوان میں چینی مِٹن کیکڑوں کی طلب بہت زیادہ تھی، لیکن مارکیٹ میں تقریباً تمام کیکڑے دوسرے علاقوں سے درآمد کیے جا رہے تھے، جن کی قیمتیں بھی زیادہ تھیں اور بعض اوقات وہ تازہ بھی نہیں ہوتے تھے۔انہوں نے سوچا کہ یہاں، دریائے زرد کا پانی ہے اور قدرتی طور پر "ویٹ لینڈ"کا ماحول بھی ہے ،تو کیوں نا ہم یہاں کیکڑے پالیں؟اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دونوں نے ویٹ مارکیٹس کا دورہ کیا، ماہی گیری کے ماہرین سے مشورے کیے اور ین چھوان کے پانی کے معیار، موسم اور صارفین کی طلب کا تجزیہ کیا۔ جو نتائج ان کے سامنے آئے وہ حوصلہ افزا تھے۔ دریائے زرد کا معدنیات سے بھرپور پانی اور دن رات کے درجہ حرارت میں نمایاں فرق، کیکڑے کی زراعت کے لیے بہترین تھے جب کہ یہاں مقامی رسد، طلب کے مقابلے میں واضح طور پر کم تھی۔
2019 میں، وہ اپنی تمام تر جمع پونجی کے ساتھ اپنے آبائی علاقے میں واپس آئے اور اپنے کاروبار کی بنیاد رکھی۔ تاہم اس کام میں پیشرفت اتنی آسان نہیں تھی۔ دونوں نے پانی پر تقریباً مستقل نظر رکھی، درجہ حرارت، آبی پودوں اور مولٹنگ کے طریقوں کی نگرانی کی لیکن پہلے سال میں، ابتدائی 13 مو (0.87 ہیکٹر) تالاب میں صرف 15 فیصد کیکڑے زندہ بچ سکے ۔انہوں نے چین میں کیکڑوں کی فارمنگ کا مرکز مانے جانے والے صوبے جیانگ سو سے تکنیکی مشیر بلوائے اور ان کی ہدایات کے مطابق، خوراک کی تراکیب اور آکسیجن کے نظام کو دریائے زرد کی معدنیات کے مطابق بنایا۔ان کی مستقل مزاجی رنگ لائی، لیب کے نتائج سامنے آئے تو ان کے فارم کے کیکڑوں میں پروٹین کا مواد, مشہور یانگ چنگ جھیل کے کیکڑوں کے برابر پایا گیااور انہوں نے جان لیا کہ محنت کا پھل مل چکا ہے۔
تکنیکی رکاوٹوں کے حل ہونے کے بعد، انہوں نے اگلا قدم اٹھایا اور شنگ چھنگ ڈسٹرکٹ کے مویشیوں اور آبی ٹیکنالوجی کی توسیع و خدمات کے مرکز کی مدد سے، بکھرے ہوئے تالابوں کو ایک جدید اور معیاری ایکوا کلچر فارم میں یکجا کیا، جس میں بجلی کا جدید انفرا سٹرکچر ، پختہ سڑکیں، چھانٹی کرنے کی ورکشاپس اور سردی سے محفوظ رکھنے کے لیے گرین ہاؤس شامل تھے۔ ان کی سرگرمی 13 مو سے تقریباً 2,300 مو تک بڑھ گئی۔
جانگ تھنگ نے کم منافع والے ہول سیل ماڈل سے احتراز کرتے ہوئے ، ین چھوان میں ریٹیل آؤٹ لیٹس قائم کیے، کارپوریٹ بلک خریداروں کو ہدف بنایا اور آن لائن فروخت کے لیے پریمیم گفٹ پیکنگز تیار کیں۔ ایک ٹریڈ مارک رجسٹر کرنے کے بعد، اس نے "مخلص صارفین" کا ایک مرکز بنایا اور بیجنگ، شانگھائی اور جیانگ سو جیسے مقامات پر فروخت کو بڑھایا، جس سے فارم کی سالانہ آمدن 3 ملین یوان (تقریباً 441,566 ڈالر) سے زیادہ ہوگئی۔
اکتوبر 2024 ، برینڈ کے لیے ایک "ٹرننگ پاونٹ " ثابت ہوا،پہلی کریب انڈسٹری (شانگھائی) ایکسپو میں جانگ تھنگ نے اپنے فارم اور اپنی برینڈ کے 650 کلو گرام کیکڑے پیش کیے۔ پورا سٹاک تین دن میں فروخت ہوگیا، مشرقی چین کے صوبے جہ جیانگ اور شانگھائی کے کئی ریسٹورنٹس نے فوراً طویل مدتی سپلائی کے معاہدے کیے۔اگلے سال، شانگھائی انٹرنیشنل کریب ایگزیبشن2025 میں، جانگ تھنگ کی برینڈ کے کیکڑوں نے چار ایوارڈز حاصل کیے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جانگ تھنگ نے اپنی کامیابی کو بس اپنے تک ہی محدود نہیں رکھا ۔ اب وہ کمپنیز ، فارمز اور کسانوں کو باہم منسلک کرنے والے والے ماڈل کے ذریعے، کسانوں کو کیکڑے کے انڈے اور تکنیکی رہنمائی فراہم کرتی ہیں اور مارکیٹنگ میں مدد کرتی ہیں۔2025 کے آخر تک، جانگ تھنگ نے 43 گھرانوں کے تالابوں کی معاونت کی اور مشترکہ طور پر 10,000 مو سے زائد رقبے پر کیکڑوں کی کاشت کی جس میں ہر شریک خاندان نے سالانہ 50,000 یوان یا اس سے زیادہ کی اضافی آمدن حاصل کی، جبکہ 40 سے زیادہ ملازمتیں بھی پیدا ہوئیں۔



