
16 جون 2026(پیپلز ڈیلی آن لائن) 12 واں چین (شنگھائی) بین الاقوامی ٹیکنالوجی میلہ ، 13 جون کو اختتام پذیر ہوا۔ اس میلے میں کئی نئے ریکارڈز قائم ہوئے، جن میں پہلی بار 1,000 سے زائد نمائش کنندگان کی شرکت اور پہلی بار 600 سے زائد مجوزہ معاہدے شامل ہیں۔ اس سال اس میلے میں 54,000 سے زائد افراد نے شرکت کی۔
اس مرتبہ میلے میں ملکی اور بین الاقوامی شرکا دونوں کے لیے Dual Guest City of Honor کا نظام بھی متعارف کروایا گیا۔بین الاقوامی مہمان شہروں میں برطانیہ کا اسکاٹش سٹیز الائنس اور سوئٹزرلینڈ کا لوزان شامل تھے۔ لوزان کی جانب سے 18 تحقیقی ادارے اور کمپنیز آئیں اور 12 معاہدوں کے امکانات بنے جب کہ سکاٹش سٹیز الائنس نے سمارٹ ہیلتھ کیئر، سمارٹ انرجی اور تعلیمی ٹیکنالوجی میں 24 تنظیموں کی جانب سے جدتیں پیش کیں جس سے 32 مجوزہ معاہدے سامنے آئے ۔
چین کے مہمان شہروں میں دالیان اور نانجنگ شامل تھے۔ دالیان کی جانب سے جہاز سازی اور بحری انجینئرنگ، جدید مینوفیکچرنگ اور صاف توانائی میں جدتوں کو پیش کرنے کے لیے 24 ہائی ٹیک ادارے سامنے آئے جب کہ نانجنگ نے آپٹوالیکٹرانکس، انٹیلی جنٹ آلات اور الٹراسونک موٹرز سمیت جدید ٹیکنالوجیز اور مصنوعات پیش کرنے کے لیے 12 کمپنیز کے ساتھ شرکت کی۔
بین الاقوامی نمائشی علاقے میں غیر ملکی تجارت اور سرمایہ کاری کی ترقی کی 26 ایجنسیز ، کاروباری ایسوسی ایشنز اور چیمبرز آف کامرس شامل تھے۔ اس علاقے میں بائیومیڈیسن، سبز توانائی اور انٹیلی جنٹ آلات میں عالمی سطح کی جدید ٹیکنالوجیز پیش کی گئیں، جس کے نتیجے میں چینی اداروں کے ساتھ متوقع تعاون کے 102منصوبے بنے۔ کاروباری میچ میکنگ کے نو مخصوص علاقوں میں 116 دو طرفہ نیٹ ورکنگ ایونٹس کی میزبانی کی گئی ، جن کے مجوزہ معاہدوں کی مالیت 236 ملین یوان تک تھی۔ تقریب کے دوران تقریباً 200 ٹیکنالوجی منیجرز نے آن سائیٹ خدمات فراہم کرتے ہوئے 800 سے زائد کمپنیز کی معاونت کی۔
تین روزہ میلے کے دوران ، ڈیجیٹل ذہانت، سبز ترقی، سمندری ٹیکنالوجی، صارفیت کی جدت اور صحت کی دیکھ بھال جیسے پانچ ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجی سیکٹرز میں ہونے والی پیش رفت اور کامیابیوں کی ایک وسیع رینج کو پیش کیا گیا جن میں برین -کمپیوٹر انٹرفیس (BCI) ٹیکنالوجی نمایاں تھی۔ معروف چینی اور غیر ملکی کمپنیز ، تحقیقی ادارے اور جدت طراز ٹیمز ، برین -کمپیوٹر انٹرفیس ٹیکنالوجیز کے تجارتی استعمال کو تیز کرنے کے لیے یہاں موجود تھیں۔ کئی کمپنیز نے اپنی جدید ترین مصنوعات اور حل متعارف کروائے، جب کہ پانچ برین -کمپیوٹر انٹرفیس مصنوعات کو عالمی سطح پر یا چین میں پہلی بار متعارف ہونے کا موقع ملا، جو صنعت کی ویلیو چین کے اہم شعبوں کا احاطہ کرتی ہیں۔
چین (شنگھائی) بین الاقوامی ٹیکنالوجی میلے میں، دریائے یانگسی ڈیلٹا کا اشتراکی اختراعی علاقہ بھی شامل تھا۔ علاقائی تعاون کی اختراعی کامیابیوں کو پیش کرنے کے لیے نیشنل انوویشن سینٹر پار ایکسیلنس کی معاونت سے اس زون میں شنگھائی، جیانگ سو،جہ جیانگ اور آنہوئی کے تحقیقاتی ادارے شامل ہوئے ۔ اس کے علاوہ جدت کی مؤثر روانی کو بڑھانے کے لیے ٹیکنالوجی روڈ شوز بھی منعقد کیے گئے تاکہ دریائے یانگسی ڈیلٹا کے علاقے میں سائنسی وتکنیکی وسائل کے مؤثر انضمام اور اشتراک کو فروغ دیا جا سکے۔
سرمایہ کاری انکیوبیشن اینڈٹیکنالوجی کمرشلائزیشن سیکٹر میں، ٹیک ٹرانسفر شنگھائی زون نے شنگھائی کے تصور کی توثیق کے سروس پلیٹ فارم اور اے آئی سے چلنے والے ٹیکنالوجی مینیجرز کے لیے ایک بڑے عمودی ماڈل کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اس تقریب کے دوران، 3,512 ملکی اور بین الاقوامی اختراعی ماحاصل اور 605 کاروباری اختراعی ضروریات جاری کی گئیں، جس کے نتیجے میں متوقع تعاون کی مالیت تقریباً 1.7 بلین یوان ہے۔
چین (شنگھائی) بین الاقوامی ٹیکنالوجی میلے میں ایک جدید ٹیکنالوجی پراجیکٹ جاری کرنے کی تقریب بھی منعقد ہوئی اس کے علاوہ رواں سال کے میلے کا سب سے بڑا اعزاز "Treasure of the Fair" ایوارڈ، کوال اے آئی لارج ماڈل سکیورٹی والٹ پراجیکٹ کے حصے میں آیا۔ میلے کے دس بہترین پراجیکٹس میں ایسی انقلابی ٹیکنالوجیز شامل تھیں جو اہم صنعتی رکاوٹوں کا حل اور معیار زندگی کی بہتری اور صنعتی ترقی کی معاونت کرنے والی عملی اختراعات پیش کرتی ہیں۔
اس میلے نے سرمایہ کاری کے فروغ ، روزگار اور ثقافتی تبادلے کے شعبوں میں وسیع اقتصادی و سماجی فوائد فراہم کیے۔ ٹیکنالوجی اور کھپت کے انضمام کو آگے بڑھانے کے لیے، منتظمین نے آٹھ تجارتی کمپلیکس اور آٹھ ہوٹلز کے ساتھ عالمی نمائشی علاقے اور چھیان تھان بین الاقوامی کاروباری ڈسٹرکٹ میں شراکت داری کی۔ ان اقدامات نے "ٹکٹ -سٹب اکانومی" کے اثرات کو بڑھانے میں مدد دی، جس کے نتیجے میں تقریب کے دوران 340,000 سے زیادہ صارفین کی آمد ہوئی۔



