
21 جولائی 2026 ۔ شنگھائی کے یویوان گارڈن مال میں ہسپانوی سیاح سیلفی بنا رہے ہیں۔(شنہوا)
23 جون2026(پیپلز ڈیلی آن لائن)چین کا " عالمی فیکٹری" سے "عالمی مارکیٹ " کی جانب ارتقائی سفر تیز ہو رہا ہے۔ ماہرین اقتصادیات اور کاروباری رہنماؤں کے مطابق، ترقی کو فروغ دینے کے لیے چین، بڑھتی ہوئی مقامی طلب پر انحصار کر رہا ہے جب کہ عالمی سطح پر اعلیٰ معیار کی درآمدات کے لیے اپنی وسیع کنزیومر مارکیٹ کو کھول رہا ہے۔
چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے میں درآمدات میں اضافے کا جو ہدف بیان کیا گیا ہے وہ تحفظ پسندی کی لہر اور جغرافیائی کشیدگیوں سے متاثرہ بین الاقوامی تجارت کے ماحول میں چین کو عالمی طلب کا ایک اہم مرکز اور غیر معمولی یقین کا ذریعہ بنانے میں بہتر طور پر مددگار ہوگا ۔
اس سٹریٹجک تبدیلی کے ایک حصے کے طور پر، وزارت تجارت نے سال بھر میں " چین کے لیے برآمدات :بڑی مارکیٹ سب کے لیے " کے 100 سے زائد ایونٹس منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ یہ ایونٹس عالمی کاروباروں کے لیے چین میں برآمدات کو بڑھانے اور دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے بازاروں میں حصہ لینے کی خاطر ایک پل کا کردار ادا کرنے کے لیے ترتیب دیئے گئے ہیں۔
پہلا غیر ملکی ایونٹ 7 جون کو بیلاروس میں منعقد ہوا، جس کے بعد یورپی یونین کا پہلا ایونٹ 11 جون کو جرمنی میں ہوا۔ چائنیز اکیڈمی آف انٹرنیشنل ٹریڈ اینڈ اکنامک کوآپریشن کے سربراہ وانگ شوئے کھون کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب یورپی یونین، تحفظ پسندانہ اقدامات کے ایک سلسلے کو آگے بڑھا رہی ہے بیجنگ اس مہم کو یورپ میں لے جا کر یہ واضح کرتا ہے کہ چاہے عالمی منظر نامہ کیسا بھی ہو، چین کا دروازہ صرف مزید کھلے گا۔اس سال 100 سے زائد ایونٹس کے ساتھ، 'چین کے مواقع' کو حقیقی معاہدوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے اور یہ صرف ایک پالیسی بیان نہیں ہے بلکہ یہ ایک عملی میکانزم ہے جس میں عملی اقدامات شامل ہیں، خاص طور پر ان چھوٹے کاروباروں کے لیے جن کو چینی مارکیٹ میں داخل ہونے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

19 جنوری 2026 کو، صوبہ حہ بے کی بندرگاہ تھانگ شان میں گودی کی جانب رواں کنٹینر جہاز ۔ (شنہوا)
جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کی جانب سے رواں ماہ کے آغاز میں پیش کردہ معلومات کے مطابق، رواں سال کے پہلے پانچ ماہ میں، چین کی درآمدات سال بہ سال 20.5 فیصد اضافے کے ساتھ تیزی سے بڑھیں جب کہ اسی مدت کے دوران برآمدات میں 11.8 فیصد اضافہ ہوا۔
ملائیشیا کے ایشیا سکول آف بزنس کے صدر اور ڈین جوزف چیریان کا کہنا ہے کہ عالمی اقتصادی بحالی کی سست روی کے تناظر میں کاروبار " چین میں موجود نہ ہونے "کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ صرف اس لیے نہیں کہ یہ ایک بڑی مارکیٹ ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ یہاں مستقبل تشکیل دینے کے امکانات زیادہ ہیں۔'
ملٹی نیشنل کمپنیز کے لیے، چین ایک "بڑی مارکیٹ"سے آگے بڑھ چکا ہے اور اب یہ جدت اور اطلاق کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے جہاں صارفین کے تصورات ، براہ راست مصنوعات کے ڈیزائن پر اثر انداز ہوتے ہیں اوراس کے نتیجے میں ہونے والی جدتیں، عالمی سطح پر متعارف کروائی جاتی ہیں، جس سے ایک مثبت سلسلہ تشکیل پاتا ہے۔ جرمن ہوم اپلائنس کمپنی BSH چائنا کے سینئر نائب صدر ہیوبرٹ ڈی ہان کا کہنا ہے کہ بڑے شہروں سے لے کر کم ترقی یافتہ شہروں تک، جن کی دولت بھی بڑھ رہی ہے اور اعلی معیار کی طلب میں بھی اضافہ ہو رہاہے ،یہ مارکیٹ پیمانے کے اعتبار سے بہت بڑی اور بہت متنوع ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ چین ایک اہم جگہ ہے۔ یہاں سے حاصل کردہ مہارتوں اور صلاحیتوں کے ساتھ، ہم دنیا کے دیگر حصوں میں بھی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔
امریکا- چائنا بزنس کونسل کی جانب سے اس ماہ جاری کیے گئے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تقریباً نصف امریکی کمپنیز ،چین میں اپنے آپریشنز سے حاصل کردہ تجربات کو دوسری مارکیٹس میں استعمال کرتی ہیں، وہ چین کو مغربی کمپنیز کے لیے ایک 'باکسنگ جم' کے طور پر دیکھتی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ چینی کمپنیز کے ساتھ مقابلہ کرنے سے ان کی مہارت اور بصیرت میں نکھار آئے گا۔
اگرچہ چینی مارکیٹ تیزی سے کھلتی جا رہی ہے، تکنیکی خدمات اور اہم اجزا کی درآمد کے لیے چین کی کوششیں دیگر معیشتوں کی جانب سے عائد ہونے والی سخت تجارتی پابندیوں کے ساتھ متصادم ہیں۔
جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے نائب وزیر وانگ جون نے رواں سال کے آغاز میں کہا تھا کہ ممالک اقتصادی اور تجارتی مسائل کو سیاسی رنگ دیتے ہیں اور مختلف بہانے بنا کر چین کو ہائی ٹیک مصنوعات کی برآمدات کو پابند کر دیتے ہیں،ورنہ، چین اس سے زیادہ درآمدات کرتا۔



