امریکہ اور ایران کے درمیان نئی جھڑپوں کے پیش نظر ایک ایرانی اہلکار نے مقامی وقت کے مطابق 28 جون کو انکشاف کیا کہ ایران نے اس روز طے شدہ تکنیکی مشاورت میں شرکت نہیں کی۔ ان کے مطابق ایران کی مذاکرات سے غیر حاضری کی دو وجوہات میں امریکہ کا ایران پر دوبارہ حملہ اور امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کی متعلقہ دفعات پر ابھی تک عمل درآمد نہ ہونا شامل ہیں۔ ان دفعات میں ایران کے منجمد فنڈز کو غیر منجمد کرنے سے متعلق معاملہ بھی شامل ہے۔ اس سے قبل،باخبر شخصیات کے مطابق یہ طے تھا کہ امریکہ اور ایران 28 اور 29 جون کو سوئٹزرلینڈ کے شہر بیلجن میں تکنیکی مذاکرات کا دوبارہ آغاز کریں گے ۔ 28 تاریخ کو امریکی ذرائع کے مطابق ایک سینئر امریکی اہلکار نے بتایا کہ امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے پر حملے بند کرنے پر اتفاق کیا ہے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے معاملے کو حل کرنے کے لیے 30 تاریخ کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کا منصوبہ طے پایا ہے ۔ ایک اور امریکی اہلکار نے کہا کہ دونوں فریق "عارضی طور پر" دشمنی ختم کریں گے اور تکنیکی بات چیت جاری رہنے کے دوران "بحری جہاز آبنائے ہرمز سے آزادانہ طور پر گزر سکیں گے "۔
ادھر عراق کے دورے پرموجود ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں آمدو رفت کی مکمل بحالی اور اس کا انتظام کسی دوسرے ملک یا ادارے کی نہیں بلکہ ایران کی ذمہ داری ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات کے موضوعات کے بارے میں نہ تو تاحال امریکہ اور ایران اور نہ ہی ثالث ممالک یعنی پاکستان اور قطر کی جانب سے کوئی سرکاری بیان سامنے آیا ہے۔



