
26 جون 2026۔ سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کے شہر ارمچی میں منعقدہ نویں چائنا- یوریشیا ایکسپو میں ایک ٹیک کمپنی کے بوتھ پر غیر ملکی خریدار عملے کے ارکان کے ساتھ محوِ گفتگو ہے۔(شنہوا۔ دنگ لے)
29 جون2026(پیپلز ڈیلی آن لائن)سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کے شہر ارمچی میں منعقدہ نوویں چائنا- یوریشیا ایکسپو میں ٹیکنالوجی تعاون کا ایک معاہدہ کیا گیا ہے جس کے تحت،چین اور کئی وسط ایشیائی ممالک ایک مشترکہ سیٹلائٹ کنسٹیلیشن قائم کر رہے ہیں تاکہ دور دراز سے حاصل کردہ معلومات کا تبادلہ کیا جا سکے ،زلزلوں، زرعی آفات اور برفانی سیلاب جیسے چیلنجز کا سامنا کیا جا سکے۔ سائنسدانوں کے مطابق، "تھئین وو کنسٹیلیشن" نامی اس سیٹلائیٹ کا آغاز پانچ سیٹلائٹس سے کیا جائے گا۔ قازقستان، ازبکستان اور تاجکستان کے سائنسدانوں نے اس معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی اور اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ مشترکہ منصوبہ ،باہمی فوائد فراہم کرے گا۔
چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے ریموٹ سینسنگ سپیشلسٹ، تھونگ چھنگ شی کا کہنا ہے کہ سنکیانگ کی جغرافیائی خصوصیات ہمسایہ وسط ایشیائی ممالک کی خصوصیات سے ہم آہنگ ہیں، جو ایک جیسے جغرافیائی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کنسٹیلیشن کا مقصد ان مشترکہ آفات کی روک تھام کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کا عملی نفاذ اور انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی تشکیل کا ایک اجتماعی اقدام ہے۔
اس اقدام میں انٹیلی جنٹ ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے ہوا-فضا-زمین کا ایک مربوط نظام شامل کیا گیا ہے جس کی مدد سے سنکیانگ میں سیٹلائٹ ڈیٹا کو پروسیس کیا جائے گا، جہاں اے آئی ماڈلز جیولوجیکل آفات کی پیش گوئی کریں گے، زرعی آفات کا پتہ لگائیں گے اور گلیشیئرز کی برف پگھلنے سے آنے والے ممکنہ سیلاب کی نگرانی کریں گے۔
انٹرنیشنل یوریشین اکیڈمی آف سائنسز کے ایک ماہر چھین شی ، طویل عرصے سے گلیشیئر جیالوجی کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ انہوں نےنشاندہی کی کہ سنکیانگ اور قریبی وسط ایشیائی ممالک ایک ہی پہاڑی سلسلے سے جڑے ہوئے ہیں اور حالیہ سالوں میں وہاں کے 20 سے 40 فیصد گلیشیئرز پگھل چکے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ گلیشیئر ز کی تبدیلیوں کی باقاعدہ اور درست سیٹلائٹ نگرانی اس علاقے کے پانی کے وسائل کی تقسیم اور پانی کی فراہمی کے تحفظ میں مددگار ہوگی۔

3 اگست 2025 ۔ چین کے سنکیانگ میں واقع تاجک خود اختیار علاقے تاشکر گان کے موز تا گاتاگلیشیر پارک کا منظر۔ (شنہوا/وانگ فے)
تاجکستان کی قومی سائنس اکیڈمی کے نائب صدر اکوبر میرزوراخیم زادہ نے کہا کہ سیٹلائٹ نیٹ ورکنگ اور مصنوعی ذہانت جیسی جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال ،رئیل ٹائم میں ماحولیاتی انتباہ کی نگرانی اور تجزیے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے اور باخبر فیصلہ سازی کے لیے ایک قابل اعتماد بنیاد ملتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ انیشئیٹو ، سائنسی ترقی، وسیع بین الاقوامی تعاون اور قوموں کے مابین مضبوط تعلقات کی طرف ایک اہم قدم ہے۔



