14 جولائی کو چین کی ریاستی کونسل کے دفتر اطلاعات کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس میں رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران چین کی غیر ملکی تجارت سے متعلق اعداد و شمار جاری کیے گئے۔اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال کی پہلی ششماہی میں چین کی اشیا کی مجموعی درآمدات و برآمدات کا حجم 25.47 ٹریلین یوآن تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 16.9 فیصد زیادہ ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سال کی پہلی ششماہی میں چین کی غیر ملکی تجارت کا حجم 25 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گیا ہے۔
چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے سربراہ کے مطابق، رواں سال کی پہلی ششماہی میں چین کی غیر ملکی تجارت کی تین نمایاں خصوصیات قابل توجہ ہیں۔پہلی یہ کہ ہائی ویلیو ایڈڈ مصنوعات اور سبز اور کم کاربن والی صنعتیں برآمدات کی اہم محرک بن گئی ہیں۔ مثال کے طور پر، اس عرصے کے دوران صنعتی روبوٹس کی برآمدات 6.29 بلین یوآن تک پہنچ گئیں، جو کہ 18.6 فیصد کا اضافہ ہے، جبکہ سرجیکل روبوٹس کی برآمدات 480 ملین یوآن رہیں، جو 3.3 گنا زیادہ ہیں۔دوسری خصوصیت یہ ہے کہ ملکی اور بین الاقوامی معاشی گردش میں زیادہ توازن آیا ہے۔ درآمدات کی شرحِ نمو برآمدات کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہی، جو ملکی مارکیٹ کی طلب میں مضبوط بحالی کی عکاسی کرتی ہے۔ تیسری خصوصیت یہ ہے کہ چین کی غیر ملکی تجارت کی مارکیٹ کا دائرہ مزید متنوع ہو رہا ہے۔ جنوری سے جون کے دوران بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے شراکت دار ممالک، آسیان، یورپی یونین اور لاطینی امریکہ اور افریقہ کے ساتھ چین کی درآمدات اور برآمدات، دونوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔



