• صفحہ اول>>دنیا

    ایران کے سپریم لیڈر کا امریکہ پر بار بار معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام

    (CRI)2026-07-20

    مقامی وقت کے مطابق 18 جولائی کی رات، ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے امریکہ پر ایران-امریکہ مفاہمت کی یادداشت میں کیے گئے وعدوں کی بار بار خلاف ورزی کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کے دستخط "بے وقعت اور غیر مؤثر" ہیں۔ بیان میں امریکہ کی مذمت کرتے ہوئے اسے "جھوٹ پر مبنی، غیر منطقی اور ناقابلِ اعتماد" قرار دیا گیا، اور اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ امریکہ اب بھی جنگ بھڑکانے کی کوشش کر رہا ہے جس کے لیے اسے "کہیں زیادہ بھاری قیمت چکانی پڑے گی"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ایرانی عوام اور مزاحمتی فرنٹ نے امریکہ کو ایک ایسا سبق سکھانے کی تیاری کر لی ہے جسے وہ کبھی نہیں بھولے گا"۔

    دوسری جانب، امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس نے امریکی مشرقی وقت کے مطابق 18 جولائی کی رات ساڑھے گیارہ بجے ایران پر حملوں کا ایک نیا دور مکمل کر لیا ہے۔ امریکی بیان کے مطابق، اس کارروائی میں "ایران کے متعدد ساحلی فوجی نگرانی اور فضائی دفاعی مراکز، بحری جنگی اثاثوں، اور میزائل اور ڈرون اسٹوریج سائٹس کو کامیابی سے تباہ کر دیا گیا ہے، جس سے ایران کی فوجی طاقت کو مسلسل کمزور کیا جا رہا ہے"۔ حملوں کا یہ دور ساڑھے پانچ گھنٹے تک جاری رہا۔ جنوبی ایران میں جزیرہ سیریک ، بندر عباس، جزیرہ قشم، اور صوبہ ہرمزگان کے علاقے حاجی آباد میزائل حملوں کا نشانہ بنے۔

    اس کے جواب میں ایرانی مسلح افواج کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر علی عبداللہی نے 19 جولائی کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی مسلح افواج امریکہ کے "کسی بھی جارحانہ اقدام کا منہ توڑ اور تباہ کن جواب دیں گی"۔ اس کے فوراً بعد، ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے کویت میں موجود امریکی فوج کے دو اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    ویڈیوز

    زبان